خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 313 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 313

خطبات ناصر جلد هشتم ۳۱۳ خطبه جمعه ۳/اگست ۱۹۷۹ء بہت کچھ خدا تعالیٰ نے بتادیا کہ کیا مانگنا ہے کس طرح مانگنا ہے پھر اسی سے آگے ہم چلتے ہیں اس دروازے میں داخل ہو کر۔سورہ تحریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔رَبَّنَا اتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۚ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ (التحريم : 9) اے ہمارے رب ہمارا نور ہمارے فائدے کے لئے کامل کر دے اور ہمیں معاف فرما تو ہر چیز پر قادر ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم کمزور انسان ہیں گناہ بھی سرزد ہوتے ہوں گے غلطیاں اور کوتاہیاں بھی ہوں گی ہمارے گنا ہوں غلطیوں اور کوتاہیوں کو اپنی مغفرت کی چادر سے ڈھانپ لے اور ہمیں آتیم لَنَا نُورَنَا اپنے دائرہ استعداد کی انتہائی روحانی رفعتوں تک اپنے فضل سے پہنچا دے اور ہم تیرے حضور عاجزی سے متضرعانہ دعا کرتے ہیں کہ تو خود (جو ہر چیز کے کرنے پر قادر ہے ) ہماری اس بات میں مدد کر کہ جو تو نے ہمیں نور دیا وہ نور مکمل ہو جائے ہماری زندگی میں اور جن انتہاؤں تک پہنچنا ہمارے لئے مقدر تھا ہمیں وہاں تک پہنچا ہماری غلطیاں کو تا ہیاں روک نہ بن جائیں اور تیری رضا کی انتہا کو ہم حاصل نہ کر سکیں۔پھر ایک اور وسیع مضمون ہے دعاؤں کا۔وہ یہ کہ ہر نبی اپنی امت کو بشارتیں دیتا ہے۔سارے قرآن کریم کو پڑھ لو کہیں اختصار سے ذکر ہے بعض جگہ تفصیل سے بھی ذکر آ گیا ہے۔تو ہر نبی اپنی اُمت کے لئے یا ان کے لئے یا ان لوگوں کے لئے جو اس کا کہا مان کر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے ہیں بشیر ہے انہیں بشارتیں دینے والا ہے وعدے ہیں جو ان انبیاء کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے ان کی امتوں سے کئے سب سے زیادہ وعدے بڑی وسعتوں والے بڑی گہرائیوں والے بڑی رفعتوں والے بڑے عظیم وعدے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے امت محمدیہ کو دیئے گئے ہیں۔پچھلے ایک خطبہ میں میں نے بتایا تھا کہ نبی اپنی اُمت کے لئے صرف بشیر ہی نہیں ہوتا بلکہ نذیر بھی ہوتا ہے کیونکہ ہر بشارت کے ساتھ شرائط ہیں اور نبی ہوشیار کرتا ہے اور تنبیہ کرتا ہے کہ اگر تم نے ان شرائط کو پورا نہ کیا تو تمہارے حق میں جو بشارتیں دی گئی ہیں وہ پوری نہیں ہوں گی۔مثلاً آپ کو سمجھانے کے لئے ایک آیت میں اس وقت لے لیتا ہوں وعدہ دیا گیا اُمت محمدیہ کو، اور یہ