خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 237 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 237

خطبات ناصر جلد هشتم ۲۳۷ خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۹ء ہیں۔میری ربوبیت کر رہا ہے میں اس پر توکل کرتا ہوں۔تمہاری ربوبیت کے سامان اس نے پیدا کئے ہیں تمہیں اس پر تو گل کرنا چاہیے اور ہر دوسری چیز کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔بھول جانا چاہیے۔چھوڑ دینا چاہیے۔اور اس پہ میں توکلت کرتا ہوں علی وجہ البصیرت اور جانتا ہوں کہ دنیا کی کوئی طاقت اگر وہ مجھ سے پیار کرے، اگر وہ مجھے اپنی حفاظت میں لے لے، اگر وہ میری ڈھال بن جائے تو مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔مَا مِن دَآبَّةٍ إِلَّا هُوَ اخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا(هود: ۵۷ ) ہر جاندار اس کی گرفت میں ہے۔کوئی اس سے اس کی گرفت سے آزاد نہیں ہے۔مگر جیسا کہ وہ پچھلے خطبہ میں میں نے بتایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بشیر اور نذیر ہیں مومن اور کافر کے لئے۔یہاں بھی شرط لگائی ہے۔تو گل کا نتیجہ تب ظاہر ہوتا ہے جب انسان صراط مستقیم پر گامزن ہو اور بہکے نہیں دائیں یا بائیں۔ان رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (هود: ۵۷) صراط مستقیم وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والا ہے۔خدا تعالیٰ کو تو اس راستہ کی ضرورت نہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والا ہے۔اِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیم کے معنی یہ ہیں کہ وہ راہ سیدھی ، وہ صراط مستقیم جو خدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہے اس صراط مستقیم پر خدا تعالیٰ کھڑا ہوا ہے انعام واکرام کرنے کے لئے اپنے ان بندوں کو جو اس راہ پر چل کر اس کی تلاش کرتے ہیں۔تو جو صراط مستقیم پر نہیں اُس کے لئے اندار ہے۔جو صراط مستقیم سے بھٹکتے نہیں اور خدا تعالیٰ کی ان راہوں کو اختیار کرتے ہیں جو اس کی رضا کی جنتوں کی طرف لے جانے والی ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے انعام اور اس کی رحمتوں کے وارث بنتے ہیں۔پھر ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلوةَ وَ انْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً و يَدرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُولَبِكَ لَهُم عُقْبَى الدَّارِ (الرعد: ۲۳) جنہوں نے اپنے رب کی رضا کی طلب میں ثابت قدمی سے کام لیا اس طرح پر کہ اس کے حکموں کو بجالائے ، نماز کو عمدگی سے ادا کیا اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے چھپ کر بھی اور ظاہر بھی ہماری راہ میں خرچ کیا اور وہ لوگ جو بدی کو نیکی کے ذریعہ سے دور کرتے رہتے ہیں، بدی کے مقابلہ میں بدی نہیں