خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 235 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 235

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۳۵ خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۹ء حسن کا سر چشمہ اور منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے خطبه جمعه فرمود ه ۲۹ / جون ۱۹۷۹ء بمقام مسجد احمد یہ۔اسلام آباد تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:۔إنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ مَا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ اخِذُ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ - (هود: ۵۷) پھر حضور انور نے فرمایا:۔یہ خطبہ پچھلے خطبہ کے مضمون کے سلسلہ میں ہی ہے۔ہم احمدی مسلمان اس اللہ پر کامل ایمان رکھتے ہیں جسے قرآن کریم میں پیش کیا گیا ہے۔اس کی ذات کو جس طرح بیان کیا گیا اس پر ہمارا ایمان ہے اور اس کی صفات کو جس طرح پیش کیا گیا ، ان صفات پر ہمارا ایمان ہے۔ہمارا اللہ ہمارا معبود ہے۔ہمارا محبوب ہے اور ہمارا مطلوب ہے۔ہم یہ ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس غرض سے پیدا کیا اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ ساری صلاحیتیں عطا کیں جن کے نتیجہ میں وہ خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنی صفات اور صلاحیتوں پر چڑھا سکتا ہے۔صرف اللہ ہی عبادت کا سزاوار ہے۔صرف وہی ہے جس کی عبادت کرنی چاہیے اس رنگ میں کہ اس کے ہر حکم کو مان کر جو حکم کہ ہماری صلاحیتوں کی نشوونما ہی کے لئے ہمیں دیا گیا ہے، ہم