خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 213 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 213

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۱۳ خطبہ جمعہ ۸/جون ۱۹۷۹ء سے ہم ہاتھ سے ظلم روکنے سے پر ہیز کرتے ہیں کہ اس سے پھر اور فساد بڑھنے کا اندیشہ ہے لیکن اگر ہم اس قسم کی دکھوں کی ایک لمبی فہرست سامنے رکھیں اور دنیا کے ہر خطہ میں انسان دکھی انسان ہمیں نظر آئے تو ہم جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف خود کو منسوب کرنے والے ہیں ہم جن کے آقا کے متعلق قرآن کریم میں یہ بیان ہوا کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء : ۴)۔کہ ایمان کے تقاضے پورا کر کے جن جنتوں کو انسان حاصل کر سکتا ہے وہ حاصل نہیں کر رہے۔وہ سکھ کی جنتیں ، وہ آرام کی جنتیں، وہ امن کی جنتیں ، وہ ادا ئیگی حقوق کی جنتیں وہ ان کو حاصل نہیں کر رہے اور تو دُ کھ اٹھا رہا ہے۔لوگوں کی خاطر اپنی جان دینے کے لئے تیار ہے۔اس اُسوہ پر عمل کرتے ہوئے ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ انسان کو یہ سمجھ عطا کرے کہ وہ انسان سے پیار کرنے لگ جائے۔انسان کو اللہ تعالیٰ یہ عقل عطا کرے کہ وہ انسان کے حقوق ادا کرنے لگ جائے۔انسان کو اللہ تعالیٰ یہ اخلاق عطا کرے کہ وہ دوسرے انسانوں کے حقوق کو غصب کرنے کی کوشش نہ کرے بلکہ ادائیگی حقوق کی طرف متوجہ ہو۔پس اس وقت میں مختصراً مگر نہایت اہم بات کی طرف جماعت کو توجہ دلا رہا ہوں کہ وہ دعاؤں کے ساتھ بنی نوع انسان کی خدمت کریں۔اس قدر دعائیں کریں کہ خدا تعالیٰ ان دعاؤں کے نتیجہ میں بنی نوع انسان کے سکھ کے سامان پیدا کرے اور آپ کے لئے پیار کی جنتوں کے سامان پیدا کرے۔روزنامه الفضل ربوه ۲۱ / جون ۱۹۷۹ء صفحه ۲ تا ۴)