خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 187
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۸۷ خطبہ جمعہ ۲۵ رمئی ۱۹۷۹ء کھیل رہی ہے کوئی ہاکی ، کوئی کچھ، کوئی کچھ ، اسی طرح بعض دوسری کلمبیں ہیں جہاں بیٹھ کر لوگ چائے پیتے اور گپیں ہانکتے ہیں۔مجھے نہیں پتا جہلم کا اسی لئے میں نے کہا اگر کہیں ہوں وہاں لا ہور کا تو مجھے پتا ہے بہت ساری کلبیں ہیں وہاں۔تو ایک شخص ہر ایک کلب کا ممبر بن سکتا ہے۔اسی طرح جاپان میں ہر جاپانی ہر مذہب کا ممبر بن جاتا ہے کیونکہ مذہب کی جو بنیادی حیثیت ہے اس سے وہ واقف نہیں رہا۔بہر حال میں بتایہ رہا ہوں کہ اسلام کے مقابلہ میں جو زبر دست طاقتیں ہیں۔ان میں دہریت اور عیسائیت اور بعض دوسرے چھوٹے مذاہب ہیں اور دہریت کے بھی مختلف فرقے ہیں۔دنیوی لحاظ سے یہ ساری طاقتیں جو ہیں اسلام کے خلاف بڑی مضبوط ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ دہر یہ اشترا کی اور سوشلسٹ جو ہیں وہ کمزور ہیں اور دنیوی کوئی طاقت انہیں حاصل نہیں تو وہ یا بالکل سادہ بچہ ہوگا یا پاگل ہوگا۔اس حقیقت سے تو انکار کیا ہی نہیں جاسکتا کہ جو خدا کے دشمن دہر یہ ہیں۔ان کو دنیوی لحاظ سے آج بڑی طاقت نصیب ہے اور اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عیسائی بھی بڑی طاقت ہیں ایک وقت میں تو ساری دنیا پر حاکم تھے وہ زمانہ گذر گیا لیکن اب بھی بڑی طاقت ہیں وہ۔بڑا اثر ہے ان کا۔پرانے جو اثرات ہیں وہ بہت سی جگہوں پر قائم ہیں۔میں نے پہلے بھی بتا یا اس جلسے پر ایک دوست زمبیا سے آئے تھے وہ کہنے لگے کہ زمبیا میں جو مشرقی افریقہ کا ایک ملک ہے تنزانیہ کے پہلو میں، وہاں ایک مسلمان بھی نہیں۔وہ خود وہیں سے آئے تھے۔میں نے کہا ہاں ایک بھی مسلمان نہیں۔تم کہاں سے آگئے ہو کہنے لگا میں زمبیا کا رہنے والا نہیں میں زائر کا رہنے والا ہوں۔میرے ماں باپ بھی زائر میں ہیں میرے بیوی بچے بھی زائر میں ہیں میں کام کے سلسلے میں وہاں آیا ہوا تھا وہاں مجھے احمدیت سے واقفیت حاصل ہوئی اور میں احمدی ہو گیا اور جلسے پر یہاں آگیا ہوں۔پھر وہ کہنے لگے کہ اصل باشندے زمبیا کے جو ہیں ان میں ایک بھی مسلمان نہیں رہا تھا یہاں تک کہ جماعت احمدیہ نے وہاں تبلیغ شروع کی اور اس وقت غالباً ڈیڑھ ہزار کے قریب مقامی باشندوں میں سے پھر واپس اسلام کی طرف آچکے ہیں۔