خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 154 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 154

خطبات ناصر جلد هشتم ۱۵۴ خطبہ جمعہ ۱/۲۰ پریل ۱۹۷۹ء خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول کے لئے ، ایک زندہ خدا سے زندہ تعلق قائم کرنے کے لئے یہ تعلیم آئی۔تمہاری بھلائی ( دنیوی بھلائی اور اُخروی بھلائی) کے سامان بھی اس میں تھے۔اتنی عظیم تعلیم ، اتنی حسین تعلیم ، اتنی مفید تعلیم تمہیں زمین سے اٹھا کر اس قدر رفعتوں تک پہنچانے والی تعلیم تمہارے پاس آئی لیکن تم ہو کہ پھر تم تکذیب کر رہے ہو۔چوتھی بات ہمیں ان آیات میں یہ نظر آتی ہے کہ یہ تعلیم جو ہے اس میں بشارات بھی ہیں اور انداری پیشگوئیاں بھی ہیں تو عجیب ہو تم (منکر اور کافر ) کہ جو عظیم بشارتیں یہ تعلیم لے کر آئی ان کی طرف تم تو جہ نہیں دیتے اور ایک ہی رٹ لگائی ہوئی ہے۔کہتے ہو کہ خدا تعالیٰ وہ وعدہ جو ہمارے کفر اور انکار پر ہمیں عذاب دینے کا ہے وہ وعدہ کیوں نہیں پورا کرتا۔ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا۔تم یہ نہیں کہتے کہ خدا تعالیٰ نے پیار کے جو وعدے ہم سے کئے ، ہمیں زمین سے اٹھا کر آسمانوں کی رفعتوں تک پہنچانے کے جو وعدے کئے وہ ہماری زندگیوں میں پورے ہوں اور ہم اس دنیا کی جنتوں سے بھی حصہ لیں اور اُخروی زندگی کی جنتیں بھی ہماری قسمت میں لکھی جائیں بشارتوں کی طرف تم توجہ نہیں کرتے اور اتنی عظیم تعلیم ، اس قدر وسیع اور اس قدر ارفع اور اس قدر عظیم بشارتوں کو چھوڑ کے تم کہتے ہو۔(مَا تَسْتَعْجِلُونَ ) کہ ہم پر جلد تر عذاب کیوں نہیں آتا۔ہم نے انکار کیا تمہارا، تو خدا ہمیں پکڑتا کیوں نہیں ، ہمیں ہلاک کیوں نہیں کرتا تم بشارتوں کی طرف توجہ نہیں کرتے اور خدا کی گرفت اور اس کی قہری تجلی کے متعلق مطالبہ کرتے ہو کہ وہ قہری تجلی جلد تم پر نازل ہو اور تمہیں جلا کر رکھ دے۔پانچویں بات ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں عذاب دینا یا ڈھیل دینا یہ میرے اختیار میں نہیں۔میں رسول ہوں۔میں پیغامبر ہوں۔دوسری جگہ فرمایا کہ ہمارے رسول پر البلاغ کے سوا اور کچھ نہیں۔پہنچادینا اس کا کام ہے۔آپ کہتے ہیں میرا کام ہے پہنچا دینا، میں پہنچا دوں گا، میرا کام ختم ہو جائے گا۔تم عذاب مانگتے ہو۔عذاب دینا میرا اختیار نہیں۔تم کہو کہ ساری بشارتیں تمہارے حق میں پوری ہو جا ئیں خواہ تم اعمالِ صالحہ بجالا ؤ یا نہ بجالا ؤ۔اپنے رب کریم کو خوش کرنے میں کامیاب ہو یا نہ ہو، یہ بھی میرے اختیار میں نہیں۔تمہیں