خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 153
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۵۳ خطبه جمعه ۲۰ ۱۷ پریل ۱۹۷۹ء ایک تو یہ اعلان کیا کہ مجھے میرے رب نے بھیجا ہے۔خدا تعالیٰ جس نے میری ربوبیت کی، اس کی طرف سے میں مبعوث ہو کر آیا ہوں۔یہاں یہ نہیں کہا کہ کہا یہ ہے کہ قُلْ إِنِّي عَلَى بَيِّنَةٍ من ربى اس میں یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان میں سے ایک وجود کو منتخب کیا اور اس قدر عظیم صلاحیتیں اور استعدادیں اسے عطا کیں کہ جس قدر عظیم صلاحیتیں اور استعدادیں کسی اور کو عطا نہیں ہوئی تھیں اور افضل الرسل اور خاتم الانبیاء کی حیثیت میں اسے بھیجا تور بوبیت کرنے والے رب کی طرف اپنی رسالت کو یہاں منسوب کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے تا کہ اس چیز کو نمایاں کیا جائے کہ عظمت والا ایک رسول ہوں اور عظمت والے وہ نشان ہیں جو خدا تعالیٰ نے میری صداقت پر قائم کئے ہیں۔وَكَذَ بتُم بِہ اور اس کے باوجود تم ہو کہ تم انکار کر رہے ہو۔پہلی بات یہ کہ مجھے میرے رب نے بھیجا دوسری بات ہمیں یہ پتالگتی ہے کہ میرے ربّ نے ثبوت دے کر بھیجا بے ثبوت نہیں بھیجا اور یہ ثبوت جو ہے آپ کی صداقت کا ، یہ ایک دو دلائل یا چند ایک نشانوں پر مشتمل نہیں بلکہ دلائل کے لحاظ سے اس قدر زبر دست دلائل کہ نہ صرف ان انسانوں کی ذہنی تسلی کے لئے کافی تھے جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا بلکہ بعد میں آنے والے جو بدلے ہوئے حالات میں، بدلے ہوئے دماغ اور ذہن رکھنے والے تھے، ان کو بھی کنونس (Convince) کرنے ، باور کروانے کی طاقت رکھنے والے دلائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے ہمیں قرآنِ عظیم میں ملتے ہیں۔تو دوسری حکمت صفت رب کے استعمال کی ہمیں یہاں یہ نظر آتی ہے کہ مجھے ربوبیت عالمین کے لئے بھیجا ہے اس لئے قیامت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا سامان اس تعلیم میں رکھ دیا گیا ہے جو قرآن عظیم کے ذریعہ مجھے دی گئی اور جس کو قیامت تک کے انسانوں تک پہنچانا میرا اور میرے ماننے والوں کا کام ہے۔تیسری بات ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ ان کھلے دلائل کے باوجود تم میری تکذیب کر رہے ہو۔تمہاری اپنی بھلائی کے لئے تمہاری اپنی رفعتوں کے لئے ، تمہاری عزتوں کے قیام کے لئے،