خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 148 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 148

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۴۸ خطبه جمعه ۱۳ را پریل ۱۹۷۹ء اگر آپ کی لائٹ پروف ہوں یعنی کوئی سورج کی کرن اندر نہ جا سکے بند کر دیں گے تو دن کے با وجود سورج نصف النہار پر ہوگا آپ کے کمرے کے اندر اندھیرا ہو جائے گا۔تو جو شخص اپنے گناہوں کے نتیجہ میں اپنے وجود کی ان کھڑکیوں کو جو خدا تعالیٰ کی طرف کھلنے والی ہیں بند کر دیتا ہے اور اپنے نفس میں اندھیرا پیدا کر دیتا ہے خدا کا نو ر وہاں کیسے داخل ہوسکتا ہے۔تو یہاں دوسری آیت میں یہ بتایا کہ تم جو گناہ کرتے ہو دوسروں کو جو نقصان پہنچتا ہے وہ حقیقی نقصان اس لئے نہیں کہ خدا تعالیٰ اس کا بدلہ ان کو دیتا ہے۔تمہیں حقیقی نقصان ہے کیونکہ تم خدا سے دوری کی راہوں کو اختیار کر کے، اس نور سے دور ہٹ کے ظلمات کو اختیار کر کے، اس پاک سے جدائی اختیار کر کے گندگی کو اختیار کرتے ، اس کی ناراضگی کی جہنم کو اپنے لئے پیدا کرتے ہو۔خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کے وارث بننے کے لئے سامان نہیں پیدا کرتے۔اور تیسرے قسم کا جو مرکب ہے گناہ، کہ گناہ کیا اور تہمت دوسرے پہ لگا دی ، یہ اس کا بھی آج کل فیشن ہوا ہوا ہے کہ ناکردہ گناہ پر گناہ کی تہمتیں لگائی جاتی ہیں اور پھر فخر بھی کیا جاتا ہے بعض حلقوں میں۔اللہ تعالیٰ فضل کرے اور سمجھ دے ان لوگوں کو۔تو یہاں تین باتیں بیان ہوئی ہیں۔حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ، حقوق نفس کی ادائیگی کی طرف توجہ، حقوق اللہ کی ادائیگی کی طرف توجہ اور انسان بشری کمزوری یا ضعف استعداد کے نتیجہ میں اگر گناہ کرے تو استغفار کا دروازہ اس کے لئے کھلا ہے اور غفور رحیم خدا ہر وقت اسے جب وہ اس کی طرف رجوع کرے رجوع بر رحمت اس کی طرف ہونے کے لئے تیار ہے اور پھر ہمیں یہ سمجھایا کہ تمہارے اوپر کوئی بوجھ نہیں ڈالا جار ہا بلکہ ہر گناہ تمہارے لئے ابدی دکھ کا باعث بننے والا ہے اس سے بچانے کی کوشش کی جارہی ہے تمہیں۔تمہارے اپنے فائدے کے لئے ہے۔چوری کے مال کا نقصان جتنا اس مالک کو ہے اس مال کے اس سے زیادہ تمہیں ہے۔اس کو تو ہزار روپے کا نقصان یا ایک بھینس چرا لیتے ہیں لوگ ، جا کے رستہ کھول لیتے ہیں رسہ گیر۔اس کو دو ہزار تین ہزار بہت اچھی بھینس ہے تو پانچ دس ہزار کی اس کا اتنا نقصان ہے لیکن تم نے جنت کے دروازے اپنے اوپر بند کر لئے اس کا نقصان تو تمہارے نقصان کے مقابلے میں کوئی چیز ہی