خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 146 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 146

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۴۶ خطبه جمعه ۱۳ ۱۷ پریل ۱۹۷۹ء خواہ وہ حقدار جو ہیں وہ بت پرست اور مشرک ہی کیوں نہ ہوں خواہ وہ خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے والے دہر یہ کیوں نہ ہوں خواہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عظیم ہستی کی اندھی مخالفت کرنے والے کیوں نہ ہوں خواہ وہ ساری عمر آپ کو ایذا پہنچانے والے کیوں نہ ہوں۔کسی کو کوئی حق نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا اُسوہ جو ہمیں نظر آتا ہے یعنی نمونہ ہمارے لئے وہ یہ ہے کہ جس حق کو خدا نے قائم کیا بندے کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اس حق کو توڑے۔خدا تعالیٰ نے جو حق قائم کئے ہیں وہ بنیادی طور پر صفت ربوبیت کے نتیجہ میں ہیں صفت رحمانیت کے نتیجہ میں ہیں صفت رحیمیت کے نتیجہ میں ہیں ، صفت مالکیت یوم الدین کے نتیجہ میں ہیں، جس کا ایک دھندلا ساعکس اس ہماری زندگی میں آتا ہے وہ اپنا مضمون مستقل حیثیت کا ہے اس وقت نہیں ہمارے سامنے۔تو حقوق العباد کو قائم کر ناضروری ہے حقوق نفس کو ادا کرنا ضروری ہے جو نہیں کرتا، پھر تو بہ کرتا اور استغفار کرتا ، خدا کی طرف رجوع کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا ہے اسے میں معاف کر دوں گا۔اور دوسری آیت میں ہر قسم کے گناہ کا انما میں ذکر ہے یعنی خواہ حقوق نفس ہوں یا حقوق العباد ہوں یا حقوق اللہ ہوں جو شخص بھی گناہ کرتا ہے وَمَنْ يُكسب اِشا جو شخص بھی بدی کرتا ہے تو بدی کا پہلا اور جو پہلا اور آخری اثر میں کہوں گا، پہلا اور آخری اثر اس کا اس کے اپنے نفس پر ہے۔فَإِنَّمَا يَكْسِبُه علی نفیسہ اس کا فعل اس پر الٹ کے پڑتا ہے مثلاً اگر وہ چوری کرتا ہے دوسرے کا مال لوٹتا ہے اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس کے اس گناہ نے اس کے دوسرے انسانی بھائی کو دکھ پہنچایا ، اس کا گناہ کیا اس نے لیکن اس کا حقیقی اثر یہ ہے کہ اس شخص نے اپنے پر خدا کی رضا کی جنت کے دروازے بند کئے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہر حکم جو ہے خواہ وہ اوامر میں سے ہو یا نواہی میں سے ہو یعنی یہ حکم ہو کہ ایسا کردیا یہ حکم ہو کہ ایسا نہ کرو وہ ہماری قوتوں اور استعدادوں کی صحیح تربیت اور صحیح نشو و نما کے لئے ہے اور جب ہم کسی حکم کو توڑتے اور اللہ تعالیٰ کا کہنا نہیں مانتے تو اس کا نقصان ہمیں ہے کیونکہ پھر ہماری صحیح اور پوری اور پیاری نشو و نما نہیں ہوسکتی ، پھر ہمارے وجود کی وہ نشو و نما نہیں ہو سکتی جس نشو و نما کے بعد ہمارا نفس خدا کے پیار کو حاصل کر سکے۔تو گناہ کا اثر دوسرے پہ بھی پڑتا ہے لیکن اصل وہ اُلٹ کے اس شخص پر گناہ کرنے والے پر آ کے پڑتا ہے