خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 142
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۴۲ خطبه جمعه ۱۳ ۱۷ پریل ۱۹۷۹ء اس کے بعد اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہے گا تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا پائے گا۔پھر فرماتا ہے کہ جو شخص کوئی بدی کرے اس کا فعل اسی پر الٹ کر پڑے گا اور اللہ بہت جاننے والا اور حکمت والا ہے اور پھر فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی غلطی کرے اور گناہ کا مرتکب ہو اور خود گناہ کا مرتکب ہے لیکن الزام لگاتا ہے کہ یہ گناہ میں نے نہیں کیا بلکہ فلاں نے کیا تو وہ بہتان بھی باندھتا ہے اور گناہ کا بہت بڑے، سب سے بڑے گناہ کا وہ مرتکب ہوتا ہے۔پہلی آیت میں دو قسم کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کا ذکر ہے۔ایک حقوق العباد ایک حقوق نفس یعنی جو اللہ تعالیٰ نے حقوق انسانوں کے انسان پر قائم کئے ہیں ایک انسان ان حقوق کو توڑنے والا ہے۔مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا وہ بدی کرتا ہے اور یہ نتیجہ ہم اس لئے، یہ معنی ہم اس لئے کرتے ہیں کہ اس کا دوسراحصہ اؤ يَظْلِمُ نَفْسَۂ کہا گیا ہے کہ خود اپنے نفس پر ظلم کرتا اور نفس کے حقوق کو بجانہیں لاتا ، تو اس سے ہمیں یہ پتا لگتا ہے، ویسے تو قرآن کریم کے بہت سے بطون ہیں ایک معنی ہم یہ کرتے ہیں کہ جو شخص غیروں کے حقوق کو پامال کرتا ہے وہ اپنے نفس کے حقوق کا بھی خیال نہیں کرتا اور اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے۔یہ گناہ کا ارتکاب جو ہے خواہ وہ حقوق العباد کو تلف کرنے کے نتیجہ میں ہو یا حقوق نفس کے تلف کرنے کے نتیجہ میں ہو یہ ایک تو بشری کمزوریوں کی وجہ سے ہوتا ہے یعنی ہر انسان میں بعض کمزوریاں ہیں اور بڑی کمزوری جس کی وجہ سے وہ گناہ پہ دلیر ہو جاتا ہے یہ ہے جو بڑی طاقت بھی ہے اس کی ایک نقطۂ نگاہ سے اور دوسرے نقطۂ نگاہ سے بہت کمزوری بھی ہے وہ ہے اس کا صاحب اختیار ہونا کہ خدا تعالیٰ نے اسے یہ اختیار دیا کہ چاہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر ایمان لائے اور ان کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالے اور اگر چاہے تو وہ خدا تعالیٰ کے احکام ماننے سے انکار کرے اور ظلم اور گناہ اور اثم کا مرتکب ہو۔ایک پہلو سے بے انتہا فضلوں کا وہ وارث بنتا ہے بوجہ صاحب اختیار ہونے کے اور دوسری طرف اس کو یہ خدشہ بھی لگا رہتا ہے کہ وہ خدا کو ناراض کرنے والا اور اس کے غضب کے نیچے آنے والا نہ ہو جائے۔بعض کمزوریاں، انسان کو چونکہ ایک متمدن نوع بنایا گیا ہے مختلف الانواع ذمہ داریاں