خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 141
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۴۱ خطبه جمعه ۱۳ ۱۷ پریل ۱۹۷۹ء گناہ کی حقیقت اور اس کی فلاسفی خطبه جمعه فرموده ۱۳ را پریل ۱۹۷۹ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے سورۃ النساء کی درج ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا اَوْ يَظْلِمُ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا - وَمَنْ يَكْسِبُ اِثْمًا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَى نَفْسِهِ وَ كَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا - وَمَنْ يَكْسِبُ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرُمِ بِهِ بَرِيَّا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا۔(النساء : ۱۱۱ تا ۱۱۳) اس کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔گزشتہ پیر اور منگل کی درمیانی رات مجھ پر ڈائریا (Diarrhoea) کا بڑا سخت حملہ ہوا اور قریباً ساری رات جاگ کے گزارنی پڑی۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی میں تکلیف بھی محسوس کر رہا ہوں اور ضعف بھی محسوس کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ فضل کرے اور مجھے بھی شفا دے اور آ سب کو بھی صحت کے ساتھ رکھے۔سورۃ نساء کی ان آیات میں گناہ کی حقیقت اور فلاسفی اور خدا تعالیٰ کی بعض صفات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص بھی کوئی بدی کرے گا یا اپنے نفس پر ظلم کرے گا