خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 128
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۲۸ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۹ء اور وہ لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا اس حال میں کہ طاقت اس کے دائیں ہوتی اور جو اسے قبول کرتا وہ نجات پا جاتا اور جو اسے قبول نہ کرتا تو تلوار اس کا فیصلہ کر دیتی۔کہتے ہیں یہ اُس مذہب نے فیصلہ دیا ہے جس کی روایتیں ہیں۔”ہم پوچھتے ہیں کہ کیا یہ تلوار اس وقت بھی کام کر رہی تھی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپ چھپ کر نماز ادا کیا کرتے اور جب کہ اسلام لانے پر مسلمان کو قسم قسم کے عذاب دیئے جاتے اور کوئی نہ تھا جو ظالموں کو ظلم سے رو کے۔حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ہجرت پر مجبور ہو گئے۔یا کیا وہ کہتے ہیں کہ جبر وا کراہ مدینہ میں استعمال کیا گیا بعد اس کے کہ اسلام سر بلند اور غالب ہو چکا تھا اور یہ آیت تو اس غلبہ کے ابتدائی دور میں نازل ہو چکی تھی۔آیت کا نزولِ زمانہ جو ہے وہ امام بخاری کے نزدیک ۳ھ میں غزوہ احد ہے اور یہ اس سے پہلے آیت نازل ہو چکی تھی۔تو بالکل ابتدائی زمانہ میں تھی اس وقت کب عروج ہوا تھا؟ وہ تو جنگ احزاب میں بھی پیٹ پر پتھر باندھ کے پھرتے تھے اور جانوں کی فکر لگی ہوئی تھی اور منافق جو تھے وہ ریشہ دوانیوں میں تھے اور یہود جو تھے وہ اپنا فتنہ تیز کرنے کی کوشش میں تھے۔اس وقت تو بڑی کمزوری کی حالت تھی ۳ھ میں اور مکہ کے کفار ہمیشہ مسلمانوں سے جنگ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔بنو نضیر نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور دو دفعہ آپ کو ہلاک کرنے کی تدبیر کی۔یہ وہ زمانہ ہے اس آیت کے بعد یہ واقعات ہوئے ہیں حالانکہ وہ مدینہ میں آپ کی پناہ میں رہ رہے تھے۔آخر حضور نے ان کا محاصرہ کیا اور وہ ہار کر مدینہ سے نکل گئے اور جن مسلمانوں نے اجازت مانگی تھی جب یعنی ان کی شرارتوں کی وجہ سے ان کو مدینہ چھوڑنا پڑا تو مسلمانوں نے جب وہ جانے لگے تو مسلمانوں نے اجازت مانگی ہم اپنے بچے جو ہیں وہ ان کے پاس نہیں رہنے دیتے اور جن مسلمانوں نے اجازت مانگی تھی کہ وہ اپنے بچوں کو جو یہودی ہو چکے تھے مجبور کر کے مسلمان بنا ئیں انہیں اس کی اجازت نہ فرمائی۔یہ اُستاد امام شیخ محمد عبدہ نے لکھا ہے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ ” دراصل وہی پہلا دن تھا جس میں مسلمانوں کو کسی قدر جبر و اکراہ کا خیال آیا۔یہ محمد عبدہ نے لکھا ہے اپنی تفسیر میں ” دراصل وہی پہلا دن تھا جس میں مسلمانوں کو کسی قدر جبر و اکراہ کا خیال آیا اور اسی دن یہ فرمان نازل ہوا کہ