خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 126
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۲۶ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۹ء سمجھا ہوگا کہ اتنی کوشش جو کی ہے جب تک اس چھوٹی سی جماعت کے پیچھے کوئی زبردست خدائی ہاتھ نہ ہو اس وقت تک یہ چیز نہیں ہے، یہ نظارہ نہیں ہماری آنکھیں دیکھ سکتیں تو وہ ایمان لے آئے تو لا إكراه فی الدین کا بعض لوگوں نے اس کی یہ تفسیر کی ہے کہ جنگ کے بعد اس قسم کی دلی تبدیلی پیدا ہو جانے کے نتیجہ میں اگر کا فر کچھ ، مومن بھی ہو جائیں تو یہ نہ کہو کہ جنگ کی وجہ سے مجبور ہو گئے وہ۔جنگ کی وجہ سے مجبور نہیں ہوئے جنگ تو دفاعی کی گئی تھی جنگ میں تو کمزوری کی حالت میں جب وہ جنگ کی گئی تھی۔ظاہری حالات میں اس جنگ میں جیتنا ناممکنات میں سے تھا لیکن اس جنگ نے بعض عقلمندوں کو ایک نشان دکھا یا خدا کا اور اس نشان میں انہیں خدا تعالیٰ کا ہاتھ نظر آیا۔اس ہاتھ کو انہوں نے پکڑا اور وہ اسلام کی طرف آگئے۔تو ایسوں کو یہ نہ کہو کہ تم دل سے ایمان نہیں لائے مجبور ہو گئے ہو۔اس کی طرف اشارہ ہے اس آیت میں۔کیونکہ جب وہ جنگ کے بعد دین میں داخل ہونے کے لئے راضی ہو گئے دل سے اور اس کا اسلام صحیح ہوا تو وہ مجبور نہیں کہلائیں گے۔مطلب یہ ہوا کہ تم ایسے لوگوں کو اکراہ و جبر کی طرف منسوب نہ کرو۔اس کی مثال دوسری جگہ یہ اتی ہے ( یہ امام رازی ابھی فرما رہے ہیں ) جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص تمہیں سلام کہے تم اسے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں صرف ظاہر سے اسلام کا اعلان کر رہا ہے۔“ علامہ الوسی ہیں۔ان کی ایک تفسیر ہے روح المعانی۔وہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔انہوں نے یہ، ان کی وفات ہوئی ہے ۱۲۷۰ء میں تو مختلف روایتیں جو ان تک پہنچیں مختلف تفاسیر ان کا ذکر کر کے وہ کہتے ہیں :۔اس آیت کی ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ دین کے متعلق خدا کی طرف سے کسی قسم کا جبر نہیں بلکہ اس کا سارا دارو مدار اختیار اور رضا پر ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو پھر ابتلا اور امتحان کا وجود ہی بے فائدہ ہو جائے اور یہ آیت ویسی ہی ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا کہ جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔“ اور تفسیر المنار، محمد عبدہ کی ہے لیکن ان کے شاگرد نے ، وہ درس دیتے تھے لکھی ہے۔وہ