خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 96 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 96

خطبات ناصر جلد هشتم ۹۶ خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۷۹ء آخری حوالہ بہت پرانی تفسیر کا نہیں بلکہ ماضی قریب کی ہے یہ تفسیر۔تو جیسا کہ پہلے بھی خطبوں میں میں بیان کر چکا ہوں ایک آیت اس مضمون پر روشنی ڈالتی ہے۔ہم سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن کریم کہتا کیا ہے؟ حکم تو شریعت قرآنیہ کا چلے گا اور خدا کہتا ہے کہ میں بھی جبر نہیں کرتا اور میر امحمدمہ بھی جبر نہیں کرتا۔اس آیت کے یہی معنے کئے ہیں ان مفسرین نے کہ خدا نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ میں جبر نہیں کرتا۔میر امحمد بھی جبر نہیں کرتا اور اس وجہ سے وَلَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحَب الْجَحِيمِ اگر کوئی انکار کرتا ہے، کوئی نفاق کی راہوں کو اختیار کرتا ہے۔کوئی مرتد ہو جاتا ہے ایمان لانے کے بعد، کسی پہ جبر کوئی نہیں۔لیکن کام یہ ہے کہ ڈراؤ اُن کو نہیں مانو گے تو خدا تعالیٰ کے غضب کی آگ میں جلو گے۔منافقانہ راہوں کو اختیار کرو گے تو قہر الہی کی وہ تجلی ظاہر ہوگی کہ تمہاری نسلیں بھی کانپ اٹھیں گی۔یہ انذار کیا ہے اور اگر ارتداد کی راہوں کو اختیار کرو گے تو خدا تعالیٰ کی گرفت میں آؤ گے۔یہ انذار کردو، ان کو سمجھا دو اور اگر مانو گے خدا کے پیار کو پاؤ گے۔دیکھو خدا کتنا پیار کرنے والا ہے۔ایک حصہ تو اس کے پیار کا مومن اور کافر ہر دو پر ظاہر ہوتا ہے اس کی رحمانیت کے نتیجہ میں اور ایک حصہ اس کے پیار کا اس کی رحیمیت کے نتیجہ میں صرف ان لوگوں پر ظاہر ہوتا ہے جو اس کے پہلے پیار کے بعد ، رحمانیت کے جلوؤں کے بعد خدا کے مزید پیار کے حصول کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے عبد بن کر اس کی رضا کی جنتیں حاصل کرتے ہیں اس دنیا میں یا اُخروی جنتیں پاتے ہیں وفات کے بعد۔مرنے کے بعد ملنے والی جنتوں کے متعلق تو کہا گیا کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھا ان کو نہ کسی کان نے سنا۔اس کا تو ہم تصور ہی نہیں کر سکتے۔اتنا ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک ایسی زندگی ہے جس زندگی کا ہر لحظہ اور ہر سیکنڈ روحانی سرور اور خدا تعالیٰ کے پیار کی لذت سے معمور ہے۔خدا تعالیٰ کس رنگ میں پیار کرے گا اور کس رنگ میں وہ لذتِ روحانی عطا کرے گا یہ خدا ہی جانتا ہے یا وہ جانتے ہیں جو اس وقت جنت میں بیٹھے ہیں ہم تو اس ابتلا کی دنیا میں بستے ہیں اور اپنی فکر کرنی چاہیے یہاں اور کوشش کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو اور خوش ہو اور ہمیں جب اس نے توفیق دی ہے ایمان لانے کی تو جو دروازے خدا تعالیٰ سے دوری کے جہنم کے خاتمہ بالخیر ہونے تک کھلے ہیں ہمارا فرض ہے کہ خاتمہ بالخیر تک پیٹھ کر کے ان