خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 82 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 82

خطبات ناصر جلد ہشتم ۸۲ خطبہ جمعہ ۲/ مارچ ۱۹۷۹ء انسان کو دکھ دینے کے لئے ہے یا اس کے فائدے میں نہیں ہے یہ تو ایسی نامعقول بات ہے کہ میرے خیال میں اگر سمجھایا جائے تو ایک بچے کو بھی آسانی سے سمجھ آجائے گی یہ بات۔اتنی بڑی دنیا جس کے ایک حصے، چھوٹے سے نقطے کا میں نے ذکر کیا ہے وہ تو اس نے پیدا کی انسان کے فائدہ کے لئے اور بے شمار چیزیں ایسی بنادیں کہ انسان فائدہ ان سے حاصل کرتا ہے، فائدہ حاصل کرتا چلا جاتا ہے اور نئی سے نئی چیز اس کے علم میں آتی ہے اور اس کو پھر افسوس ہوتا ہے کہ میں نے پہلے کیوں نہیں یہ علم حاصل کیا۔پہلے اس سے فائدہ حاصل کر لیتا لیکن اس کے مقابلہ میں جو اس نے انسان کی ہدایت کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل شریعت نازل کی وہ انسان کے فائدے کے لئے نہیں یا اس میں کوئی ایک بھی ایسا حکم ہے جو اس کے فائدے کے لئے نہیں۔یہ نامعقول بات ہے۔انسانی عقل ، انسانی فطرت اسے قبول نہیں کرے گی۔اس واسطے خدا تعالیٰ نے اس آیت میں پہلے دنیا کی نعماء کا ذکر کیا کہ ہر چیز انسان کے فائدے کے لئے پیدا کی گئی ہے۔وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ خدا تعالیٰ نے کہا دیکھو ہر چیز جو ہے وہ نعمت کے طور پر پیدا ہوئی ہے تو اس سے تمہیں نتیجہ نکالنا پڑے گا کہ مَا انْزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ الْكِتَبِ وَالْحِكْمَةِ اس کی طرف سے آنے والی کامل ہدایت بھی خدا تعالیٰ کی طرف ہی لے جانے والی ہے وہ بھی ایک نعمت روحانی ہے اس کو ہم ہدایت ، شریعت ، حکمت، اس کو ہم ایک حسین تعلیم ، اس کو ہم انسان کو ایک بہترین انسان بنانے والی، اس کو ہم ایک وحشی کو متمدن، متمدن کو با اخلاق، با اخلاق کو روحانی انسان بنانے والی تعلیم سمجھتے ہیں، اس طرح جس طرح دنیا کی ہر چیز سَخَّرَ لَكُمْ کے ماتحت انسان کے فائدے کے لئے ہے۔اسی طرح قرآن کریم کا ہر حکم انسان کے فائدے کے لئے ہے اور جو شخص یہ نہیں سمجھتا وہ بدقسمت اور محروم ہے کہ خدا تعالیٰ اسے دینا چاہتا ہے اور وہ لینے سے انکار کر رہا ہے۔مگر اس زمانہ میں یہ اندھی دنیا خدا سے دور جا چکی ہے اور خدا کی طرف واپس انہیں لے آنے کا کام جماعت احمدیہ کے سپر د کیا گیا ہے اور اس کے لئے جماعت کو نمونہ بنا چاہیے اور نمونہ بننے کے لئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی معرفت انہیں حاصل ہو۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ