خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 77 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 77

خطبات ناصر جلد هشتم 22 خطبہ جمعہ ۲/ مارچ ۱۹۷۹ء ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمُ (البقرة :۲۳۲) آیات اللہ کو محل استہزا نہ بناؤ بلکہ خدا تعالیٰ کی جو مادی دنیا میں صفات ظاہر ہوئی ہیں۔اس مادی دنیا میں نعماء باری جو ہیں ان کو سمجھو اور ان کی معرفت حاصل کرو تا کہ ان کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی صفات کی معرفت حاصل کر سکو تو نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُم یہ قرآن کریم کے محاورہ میں جسمانی روحانی ہر دو قسم کی نعمتوں پر بولا جاتا ہے (یہاں چونکہ مقابلہ ہوا ہے ہدایت کے ساتھ اس لئے ، ویسے تو خدا تعالیٰ کی روحانی نعمتیں اور اس کا کلام بھی بڑی نعمت ہے اور جو انسان کو صلاحیتیں دی گئی ہیں وہ بڑی نعمتیں ہیں) لیکن یہاں چونکہ کتاب و ہدایت کا ذکر بعد میں آیا ہے اس لئے یہاں مراد ہوگی ہر دو جہان کی ہر چیز جس کا ذکر سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا منه (الجاثیۃ : ۱۴) میں آتا ہے یعنی ہر چیز انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے تم ان کے متعلق علم حاصل کرو اور ان کے حسن کو دیکھو، دیکھو کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے بعض چیزوں کو لاکھوں سال پہلے پیدا کیا اس معنی میں ارتقائی دور میں سے گذرنے کے لئے ان میں حرکت پیدا کی اور پھر بعض چیزیں ایسی ہیں جو کئی لاکھ سال کے بعد اس شکل میں آئیں جس شکل میں آج انسان ان سے فائدہ اٹھاتا ہے یہ بھی خدا تعالیٰ کی نعمتیں ہیں نعماء ہیں ان کو یاد کرو اور یا درکھو اور ان کے علاوه وَ مَا أَنْزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ الكتب وَالْحِكْمَةِ (البقرة :۲۳۲) خدا تعالیٰ نے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تمہارے لئے ایک کامل کتاب نازل کی ہے ایک ہدایت کا ملہ تمہیں دی اور ایک حکمت کی کتاب یعنی ایسی شریعت جو فطرت کے مطابق ہے اور بات حکم“ سے نہیں بلکہ حکمت سے منواتی ہے یعنی ہر حکم جو ہے شریعت کا اس کی وجہ قرآن کریم نے بیان کی کہ یہ حکم تمہارے کس فائدے کے لئے ہے اس لئے تمہیں یہ حکم دیا گیا ہے یہ تمہارے اوپر کوئی چٹی نہیں ہے کوئی بیگار نہیں لی جا رہی تم سے جس کو قربانی کہا جاتا ہے وہ تم اپنے نفس کے لئے قربانیاں دے رہے ہو اس کا فائدہ تمہیں پہنچے گا، تمہاری نسلوں کو پہنچے گا کسی چیز سے تمہیں محروم نہیں کیا جارہا۔جو مال کی مثلاً قربانی ہے اس کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ خدا مال کو لیتا ہے تا کہ بڑھا کر واپس کرے۔غرض قرض نہیں رکھتا وہ ( یہ عجیب قربانی ہے کہ پانچ روپے لئے اور پانچ سو دے دیئے