خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 73
خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۳ خطبہ جمعہ ۱۶ / فروری ۱۹۷۹ء نیکیاں محدود کیونکہ زندگی محدود۔محدود زندگیوں کے مقابلہ میں غیر محدو دنتیجہ جنتوں میں رہنے کا اور انعامات کا سوائے خدا تعالیٰ کے فضل کے نہیں مل سکتا تو جس رب کریم نے ہماری پیدائش سے پہلے بے شمار ، بے حد و حساب نعمتوں سے ہمیں نوازا اس کے متعلق یہ سوچنا کہ ہمارے مرنے کے بعد وہ اب اس قابل نہیں رہا کہ اپنی جنتوں میں ہمیں ہمارے محدود اعمال کے مقابلہ میں غیر محدود جزا دے کر بے حد و حساب، بے شمار نعماء روحانی سے نواز نہ سکے یعنی یہ غلط بات ہے کہ ہم یہ کہیں کہ وہ نوا ز نہیں سکتا کیونکہ اس کے جو ہماری پیدائش سے پہلے اس کا ہم سے سلوک ہے اس نے بغیر کسی شک اور شبہ کے یہ ثابت کیا کہ وہ خدا جو ہے وہ کر بھی سکتا ہے اور کرے گا بھی۔اور کرے گا اسی وجہ سے ہم کہتے کہ اس نے پہلے کیا۔انسان کو پیدا ہی اس لئے کیا گیا تھا کہ اس پر بے حد و شمار خدا تعالیٰ کی نعمتیں نازل ہوں۔کچھ اس کی نیکیوں کے نتیجہ میں یعنی بے حد و شمار جو نعمتیں ہیں کچھ کا حصہ تو مقبول اعمالِ صالحہ کے نتیجہ میں۔لیکن جو اصل حقیقت ہے وہ یہ ہے کہ یہ بے حد و حساب نعمتیں جو ہیں وہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہیں۔اس واسطے کسی ایسے عقیدہ کی ہماری عقل کو ، ہماری فطرت کو ، جس میں بے حد و شمار صلاحتیں نعماء ظاہری کے استعمال کے لئے اور پھر ارتقاء کرتے ہوئے نعماء روحانی کے قبول کرنے کے لئے پیدا کی گئی ہیں جس کو ہماری فطرت ، فطرتِ انسانی علی وجہ البصیرت یہ بجھتی ہے، اس یقین پر قائم ہے، روشن چیز ہے ہمارے سامنے کہ ہمارا خدا جو ہے وہ اپنے فضل سے بے حد و شمار نہ ختم ہونے والی نعمتیں نہ ختم ہونے والی زندگی میں ہمیں عطا کرے گا۔اس واسطے وہ تمام عقائد جو خدا تعالیٰ کی رحمانیت جو خدا تعالیٰ کے سلوک سے جو اس نے انسان سے کیا کہ یہ اعلان کر دیا سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّبُواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (الجاثية : ١٤) اس کے یہ خلاف ہے کہ یہ کہا جائے کہ پھر وہ روح کو واپس لائے گا اور ایک نئے سرے سے ان کو کہے گا کہ نیک اعمال کرو تب تم میری جنتوں میں رہ سکتے ہو ورنہ نہیں رہ سکتے۔خدا تعالی بڑا پیار کرنے والا ہے۔اس محدود زندگی میں اپنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق جس حد تک ہم اس سے اس کے بے حد و حساب پیار کے مقابلہ میں پیار کر سکیں وہ ہمیں کرنا چاہیے ورنہ ہماری بدقسمتی ہوگی، ورنہ وہ روح جو ابدی جنتوں کے لئے پیدا کی گئی ہے اسے اپنی