خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 72 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 72

۷۲ خطبہ جمعہ ۱۶ / فروری ۱۹۷۹ء خطبات ناصر جلد هشتم تو جس نے ہماری پیدائش سے پہلے بے شمار نعمتوں سے ہمیں نواز اوہی ہمارے مرنے کے بعد بے شمار نعمتوں سے ہمیں نواز نے والا ہے اور ایک عمل ہمیں نظر آ رہا ہے اس زندگی میں کہ یہ بادل ہیں اللہ یہ خیر کے ہی بادل بنائے اور یہ بارش ہے اللہ خیر کی بارش کرے، یہ چاند ، یہ سورج، یہ ان کی شعاعیں، یہ زمین، یہ اس کی بے شمار خاصیتیں ، ایکٹرایکٹر میں فرق تا کہ ہم مختلف اجناس اُگا سکیں ان کے اندر ، علاقے علاقے کی طاقتوں کا زمین کا فرق۔کوئی روئی اگا رہی ہے کوئی گندم اُگارہی ہے، کوئی کچھ اُگا رہی ہے، کوئی باغات اُگا رہی ہے تا کہ انسان خدا تعالیٰ کی کسی نعمت سے بھی محروم نہ رہے۔بغیر کسی عمل کے یہ ساری چیزیں پیدا کیں۔جس نے عملاً اپنی بے شمار نعمتوں سے انسان کو اس کے عمل سے پہلے نواز دیا اس کے متعلق تو ایک لحظہ کے لئے بھی یہ شبہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ روحانی دنیا میں جب وہ اپنی رضا کی جنتوں میں انسان کی روح کو لے جائے گا۔یہی جلوہ اس کے اوپر نہیں کرے گا کہ ابدی زندگی اس کو عطا کرے اور اس کی روح کو اس کے پیار کی جنتوں کے حصول کے لئے ایک خاص وقت کے بعد دوبارہ عمل کی زندگی گزارنے کے لئے دنیا میں بھیجا جائے ایک نئے جسم کے اندر۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ ہاں عائشہ میں بھی اللہ کے فضل ہی سے جنت میں جاؤں گا تو اس میں بھی یہ اعلان کیا کہ اے عائشہ! دیکھو میں ایک انسان ہوں، میری زندگی محدود، اس محدود زندگی میں خد کے لئے میرا ہر لحظہ جو خرچ ہورہا ہے زندگی کا وہ بھی محدود۔اس محدود زندگی میں محدود عمل جو میں بجالاؤں اور خدا نے مجھے توفیق دی کہ میں ہر عمل ہی خدا کی رضا کے لئے بجالا ؤں لیکن پھر بھی ہیں تو وہ محدود تو میرے محدود عمل کا غیر محدود نتیجہ خدا کے فضل کے بغیر کیسے نکل سکتا ہے۔اس واسطے حقیقت یہی ہے کہ میں بھی اے عائشہ! خدا کے فضل کے بغیر ابدی زندگی کو حاصل نہیں کر سکتا ، اس واسطے کہ خواہ لَوْ لَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاك ہی کیوں نہ ہوتا یعنی ہر دو جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وہ اپنی جگہ پر درست لیکن اس پر دو جہان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی محدود، اس زندگی میں انتہائی فدائیت کے نمونے ایک کامل انسان کی حیثیت میں آپ نے دکھائے اور خدا تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم بن گئے یہ درست لیکن خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر اتم بننے کے باوجود آپ کی