خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 70
خطبات ناصر جلد هشتم خطبہ جمعہ ۱۶ / فروری ۱۹۷۹ء جلتے حالات میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں یہ اعلان فرمایا صَلُّوا في رِحَالِكُمْ کہ ایسا موسم ہے کہ اپنے گھروں میں ہی نماز اب تم پڑھ لو، جمعہ کے لئے آنے کی ضرورت نہیں اور یہ جو سہولت دی جاتی ہے اور جو لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ان کو بھی جہاں تک ثواب کا تعلق ہے اس معنی میں کوئی نقصان نہیں کہ جنت میں جانا اور جنت میں ابدی زندگی گذار نا محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے انسان کے عمل کے نتیجہ میں نہیں۔تو اس موسم نے میری توجہ اس مسئلہ کی طرف پھیری کہ بہت سے انسان ایسے مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں جن کا مذہبی عقیدہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ محدود اعمال کی غیر محدود جزا نہیں دیتا، نہ دے سکتا ہے اس لئے یہ انتظام کیا اس نے کہ جس وقت ایک روح جنت میں اپنے اعمال کا بدلہ پالیتی ہے تو اسے واپس اس ایسی دنیا میں یا اس دنیا میں جہاں نیک اور بدعمل کا موقع اور اس کے او پر جہنم یا جنت کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور پھر نئے سرے سے ایک زندگی شروع ہوتی ہے۔نئی جون میں روحیں آتی ہیں۔نئے جسموں کے اندر نئے سرے سے عمل کرتی ہیں ، پھر نئے سرے سے خدا تعالیٰ ان کے اعمال کی جزا کے لئے انہیں ایک محدود عرصہ تک جنت میں رکھتا ہے۔پھر وہ عرصہ پورا ہوجاتا ہے پھر وہ واپس نئے جسموں میں آتی ہیں ایک نیا دور پھر شروع ہو جاتا ہے اور اس طرح غیر متناہی دور انسان کی روح پر آتے رہتے ہیں لیکن اسلام ہمیں یہ تعلیم نہیں دیتا۔یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوال پر فرمایا کہ ہاں عائشہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی جنت میں جاؤں گا اپنے اعمال کے نتیجہ میں نہیں اور یہ عقیدہ رکھنا کہ جو جنت میں جائیں گے اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ ان کو ایک ابدی جنتی زندگی عطا کی جائے گی پھر وہ جنت میں سے نکالے نہیں جائیں گے اور یہ عقیدہ رکھنا جیسا کہ اسلام نے ہمیں سکھایا کہ جنت کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پیار کے جلوے مرورِ زمانہ کے ساتھ پہلے کی نسبت زیادہ نازل ہوں گے یا جلوہ گر ہوں گے جنتیوں پر۔بلکہ ایک حدیث میں تو یہ بھی آیا ہے کہ ہر روز جنتی اپنے مقام سے ایک بالا مقام کی طرف خدا کی رضا کے نتیجہ میں اور اس کے فضل سے ترقی کر جائیں گے اور نئی رفعتوں کو حاصل کریں گے اور زیادہ قرب انہیں نصیب ہوگا اللہ تعالیٰ کا۔قرآن کریم نے ہمیں سمجھانے کے لئے یہ بتایا ہے، وہ