خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 824
خطبات ناصر جلد هشتم ۸۲۴ خطبه جمعه ۵ /دسمبر ۱۹۸۰ء اور اپنے فکر اور عمل کو اس کے سانچہ میں ڈھالے اور اعمالِ صالحہ بجالائے تو اس کو اتنا اجر ملے گا جو پہلے کسی کو نہیں مل سکتا تھا۔آجدًا كبيرا تیار کیا گیا ہے اور یہ جو اجر ہے اس کا تعلق صرف اس زندگی سے نہیں اُس زندگی سے بھی ہے۔انسان نے دو جگہ غلطی کھائی۔اُس کا قدم دوطرف پھسلا۔بعض نے کہا اس زندگی میں اجر نہیں ملتا۔جنت ایک ہے مرنے کے بعد ملے گی۔قرآن نے کہا تھا کہ جنتیں دو ہیں اس دنیا میں بھی تم جنت میں جا سکتے ہو ، جنت کو حاصل کر سکتے ہو اور مرنے کے بعد بھی جنت میں جاسکتے ہو، اس کے لئے تم سعی کرو، مجاہدہ کرو ، جہاد کرو ( حقیقی معنی میں ) ایسے اعمال کرو، اتنی دعائیں کرو کہ تمہارے ان اعمال کو اللہ قبول کر لے۔مقبول عمل کی تمہیں توفیق ملے اور ہر دو جنتوں کے تم وارث بن جاؤ۔تو اجرا كبيرا جو ہے اس کے دو پہلو ہیں۔اس دنیا میں اجر اور مرنے کے بعد جنت ، اس دنیا کی جنت اور مرنے کے بعد کی جنت۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ اَنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ (بنی اسرآءيل:۱۱) کہ جولوگ خدا تعالیٰ کی ہدایت اور رہنمائی کی طرف توجہ نہیں کرتے بڑی کمزوری ان کے دل اور دماغ اور روح میں یہ ہوتی ہے کہ وہ آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔جب آخرت پر ایمان نہ لائے اور خدا تعالیٰ کے محاسبہ کو بھول گئے اور اس سے غافل ہو گئے اور سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ مرنے کے بعد محاسبہ نہیں کرے گا اور کوئی جزا سزا نہیں اور نیک اعمال کے لئے کوئی جنت نہیں اور خدا تعالیٰ کا غضب انسان پہ بھڑک نہیں سکتا کیونکہ ہے ہی نہیں اُخروی زندگی، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر تم نے اس اقوم ہدایت کے مطابق زندگی نہ گزاری تو اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ( بني اسراءيل:۱۱) جس طرح اس پر عمل کرنے والوں اور مقبول اعمالِ صالحہ بجالانے والوں کے لئے اجر کبیر ہے اسی طرح جو اس پر عمل نہیں کرتے ان کے لئے ایسا درد ناک عذاب ہے کہ جسے سوچ کے بھی رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے اور اجر کبیر کا ہمیں وارث بنائے۔ان ہر دو جنتوں میں ، اس دنیا کی جنت میں بھی اور مرنے کے بعد جو جنت ہے اس میں بھی۔آمین۔روزنامه الفضل ربوه ۴ / مارچ ۱۹۸۱ء صفحه ۲ تا ۴)