خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 821 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 821

خطبات ناصر جلد ہشتم ۸۲۱ خطبه جمعه ۵ /دسمبر ۱۹۸۰ء چسپاں ہوتے ہیں یا جن معانی کے مطابق ہم تفسیر کر سکتے ہیں وہ یہ ہیں۔سب سے زیادہ درست اور سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کرنے والی ہدایت جس میں ذرا بھی کبھی نہیں۔یہ جو سیدھی راہیں ہیں یہ نسبتی طور پر بھی سیدھی ہیں، روحانی عالم میں اور مستقل حیثیت میں بھی سیدھی ہیں۔مثلاً جو شریعت حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی اس میں ایک حکم یہ تھا کہ انتقام لو، ان کے حالات کے مطابق یہ سیدھا راستہ تھا لیکن کامل ہدایت کے نقطہ نگاہ سے یہ سیدھا راستہ نہیں تھا۔حضرت عیسی علیہ السلام پر یہ ہدایت نازل ہوئی، تو رات کو ہی وہ مانتے تھے لیکن تو رات کے ماننے والے جو انبیاء آئے وہ حالات کے بدلنے کے ساتھ خدا تعالیٰ کی وحی سے ، خدا تعالیٰ کی وحی کے مطالبہ کو پورا کرتے ہوئے ، تو رات میں کچھ تبدیلیاں چھوٹی چھوٹی ، بڑی بڑی کرتے رہے ہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام پر یہ وحی نازل ہوئی کہ انتقام نہیں لینا، معاف کرو، انسانی فطرت کے لحاظ سے یہ بھی پوری طرح سیدھی راہ نہیں تھی لیکن بنی اسرائیل کی اس وقت کی کیفیت روحانی کے لحاظ سے یہ سیدھی راہ تھی تو ایک نسبتی سیدھا پن ہے، استقامت ہے، صراط مستقیم کا ہونا ہے اور ایک حقیقی طور پر اور بغیر نسبت کے کامل اور مکمل طور پر راہ کا سیدھا ہونا ہے۔قرآن کریم کے لئے اسی واسطے اقوم کا لفظ بولا گیا ہے۔پچھلی ساری جو ہدایتیں آئی ہیں وہ بوجہ ایک قوم کو مخاطب کرنے اور بوجہ اس کے کہ ان کا تعلق صرف ایک محدود زمانہ سے تھا کامل اور مکمل نہیں ہو سکتی تھیں کیونکہ زمانہ کے بدلنے کے ساتھ اور قوم قوم کے حالات میں جو فرق پایا جاتا تھا اور ان کے معاشرے میں ، ان کے روحانی ارتقاء کے لحاظ سے ان کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر جو وحی نازل کی وہ ایک کامل وحی نہیں تھی اس معنی میں جس معنی میں قرآن کریم کی وحی ایک کامل اور مکمل وحی ہے۔اس لئے اس کی تعلیم جو ہے وہ اقوم ہے یعنی سب سے سیدھی راہ ، ہدایت کی سب سے سیدھی راہ جو ہر قسم کی کبھی سے پاک ہے، وہ کجی جو زمانہ پیدا کرتا ہے، وہ بھی جو ملک ملک کے حالات پیدا کرتے رہے ان سب سے پاک ہو کر نوع انسان کو خواہ بعد میں قیامت تک آنے والے کسی زمانہ سے ان کا تعلق ہو یا کسی ملک سے ان کا تعلق ہو سب کے لئے ایک سیدھی راہ معین کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کے پیار تک لے جانے والی اور اس کی رحمتوں کے حصول کے قابل بنادینے والی ہے، اگر اللہ چاہے۔