خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 817
خطبات ناصر جلد هشتم ۸۱۷ خطبه جمعه ۲۸ /نومبر ۱۹۸۰ء رہے ہیں۔مثلاً منافقین کے متعلق بھی قرآن کریم کے شروع میں یہ بتا یا گیا ہے کہ جب ان کو کہا جائے کہ جو صلاح کے رستے ہیں، جو معاشرے کو درست کرنے کی باتیں ہیں ان کو اختیار کرو، تو وہ کہتے ہیں فساد نہ کرو۔کہتے ہیں ہم فساد تو نہیں کرتے ہم تو مصلح ہیں۔خدا کہتا ہے نہیں تم مصلح نہیں ہو تم مفسد ہو۔اسی طرح وہ خدا کہتا ہے دیکھو ہر آدمی بڑا بھی چھوٹا بھی مختلف قابلیتیں ہیں وہ اپنی اپنی ہمت اور طاقت اور استعداد کے مطابق ذکر الہی میں مشغول ہیں اُس قسم کا ایمان لاؤ۔وہ کہتے ہیں جو بیوقوف لوگ ہیں ہم اس قسم کا ایمان لے آئیں۔تکبر آ گیا نا۔ایک اور جگہ ذکر الہی سے جو خود کو محروم کر دیتا ہے یعنی خدا تعالیٰ سے دور چلا جاتا ہے اس کے متعلق خود قرآن کریم نے کہا ہے کہ وہ تکبیر کی لعنت میں ملوث ہو جاتا ہے اور مارا جاتا ہے۔یہ اہم چیز ہے بڑی جیسا کہ میں نے بتایا دوہی جگہ انسان کی روح اپنا رشتہ قائم کرسکتی ہے یا اللہ سے ذکر الہی کر کے یا شیطان سے یا ذکر الہی کو چھوڑ کر۔تو ہر وقت چوکس رہ کر خدا تعالیٰ کی یاد میں اس کی عظمتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی ذات کی معرفت ، اس کی صفات کی معرفت زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک احمدی کو اپنی زندگی کے دن گزار نے چاہئیں۔اس لئے کہ خدا یہ چاہتا ہے کہ تم اپنے دن اور رات تم اپنا اٹھنا اور بیٹھنا، تم اپنا سونا اور جاگنا، آج کی دنیا کے لئے جو آدم کی نسل اب باقی رہ گئی ہے اس کی زندگی اگلا ہزار سال اس کے لئے ایک نمونہ بنو اور اُسوہ بنو۔تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے والے ہو اور اپنے رب کریم کو ہر وقت اور ہر آن یا درکھنے والے اور اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھنے والے اور خدا کے حضور سب کچھ پیش کر دینے والے بن جاؤ۔خدا کرے کہ ہمیں اس کی اُسی کی طرف سے توفیق مل جائے۔آمین ( از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )