خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 807
خطبات ناصر جلد هشتم ۸۰۷ خطبه جمعه ۲۱ / نومبر ۱۹۸۰ء نا مجھے آکے، شکایت کرے گا جی آپ کا دفتر خالی پڑا تھا اور میری راہنمائی کرنے والا کوئی نہیں تھا۔تو ایسے کام بھی ہیں۔پھر پیار سے کرنا ہے۔باہر وہ فضا نہیں اس واسطے بعض لوگ پوری طرح تربیت یافتہ نہیں ہوتے۔ویسے خدا کا فضل ہے جماعت بہت اچھی طرح تربیت یافتہ بھی ہے لیکن نئے آنے والے ہیں ، نئے بچے جوان ہونے والے ہیں ان کو سمجھاؤ ، ان کو پیار سے بتاؤ کہ اس قسم کا یہ کام ہے۔خدا کے لئے کام کرنا ہے چند دن کا کام ہے، بڑی برکتوں والا کام ہے، بڑے انعام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتے ہیں۔انسان انسانوں سے انعام لینے کے لئے بڑی تکالیف برداشت کر لیتا ہے اگر خدا تعالیٰ سے انعام لینا ہوتو یہ تکلیف کوئی تکلیف ہی نہیں۔کیا تکلیف ہے کوئی تکلیف نہیں ہے۔تو باہر کی جماعتیں بھی حسب ضرورت حسب مطالبہ تعداد جو ہے مطلوبہ تعداد میں رضا کار بھجوائیں سمجھدار ، مستعد ، دن رات جاگنے والے۔یہ بھی لوگوں کو وہم ہے کہ اگر ایک رات نہ جاگیں تو انسان کو پتا نہیں مرجاتا ہے یا کیا ہو جاتا ہے۔مجھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی زندگی میں تین دفعہ یہ سبق سکھایا ہے کہ اگر آدمی دو مہینے بھی نہ سوئے ٹھیک طرح تب بھی کچھ نہیں ہوتا۔صحت اچھی ہو جاتی ہے خراب نہیں ہوتی۔اس واسطے یہ جلسہ کیا؟ جلسہ کا تو ہر سال ساری رات کام بھی کیا، تھوڑا سا سو بھی لیا کیا فرق پڑتا ہے۔گھر جا کے بے شک سولینا اپنی ماؤں کے پہلوؤں میں پیار کروانا ان سے کہ ہم کام کر آئے ہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کی کوشش کرو یہاں کے رہنے والے بھی اور باہر سے آنے والے بھی۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو حقائق کے سمجھنے کی اور ذمہ داریوں کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا کرے۔آمین۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )