خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 800
خطبات ناصر جلد ہشتم خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۸۰ء إِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُونَ (یوسف: ۱۰۷) تو خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے متعلق دل میں کوئی شبہ نہ رہے۔ایک اس قدر کامل ذات اور صفاتِ حسنہ سے متصف ذات کہ انسانی دماغ تو اس کی محاورہ ہے ہمارا، گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔اتنی قدرتوں کا مالک ہے، اس کو خوش رکھو۔اس زندگی میں آزمائشیں بھی ہیں دکھ بھی ہیں۔قانون دوسرا بھی چل رہا ہے مگر ہر دکھ کو وہ آرام میں تبدیل کر دیتا ہے۔اب ۷۴ء میں بڑا دکھ پہنچا جماعت کو کوئی شک نہیں۔میں نے کہا تھا ہنستے رہو اس لئے کہ ہماری ہنسی کا سر چشمہ یہ بشارت ہے کہ یہ زمانہ غلبہ اسلام کا زمانہ ہے۔اس سے بڑی اور کیا خوشخبری ہمیں مل سکتی ہے اور جماعت نے ہنستے ہوئے مسکراتے ہوئے وہ زمانہ گزار دیا اور ہر لحاظ سے اس قدر ترقی کی ہے کہ دنیوی لحاظ سے دنیا دار نگاہ دیکھتی اور حیران ہوتی ہے۔پھر لوگ ایک اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔خدا نے قرآن کریم میں کہا کہ اس زندگی کے بعد دوسری زندگی ہے اور اس کے متعلق شہے میں پڑ جاتے ہیں۔کئی ہیں کہتے ہیں، ” ایتھے جنے مزے اڑانے نے اڑالو پتا نئیں اگے ملنا اے یا نئیں ملنا۔اگر شہبے میں ہو تو پھر خیر نہیں ملے گی آگے جائے۔کیونکہ ایمان کی شرط یہ ہے کہ ہر قسم کے شبہے سے پاک ہو وہ ایمان اور اگر سوچیں تو یہ دو چار میں نے لی ہیں اور بھی بہت ساری باتیں ہیں۔بنیادی چیز یہ ہے کہ جو عالم الغیب خدا ہے خدا ہی عالم الغیب ہے نا، ہم تو نہیں غیب کی باتیں جاننے والے، وہ مستقبل کے متعلق بھی ہیں اور وہ حال کے متعلق بھی ہیں غیب کی باتیں۔مستقبل کے متعلق جو باتیں ہیں ان میں اُخروی زندگی بھی ہے۔اس میں اس صدی میں غلبہ اسلام بھی ہے۔اس میں انسان کے لئے یہ بشارت بھی ہے کہ جو ایک دوسرے کو خدا کی نافرمانی کرتے ہوئے اس کے غضب کے نیچے آ کر ہلاک نہیں کر لیں گے وہ سارے کے سارے جو ہیں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جا ئیں گے اور امن اور سکون اور بشاشت اور خوشحالی کی زندگی گزارنے لگیں گے۔یہ مستقبل کی بات ہے۔مجھے کئی جگہ کہنا پڑا کہ تم سمجھو گے میں کوئی پاگل آ گیا ہوں تمہارے سامنے ایسی باتیں کرتا ہوں یورپ کے لوگوں کو مگر یہ یاد رکھو، لکھ چھوڑ وتم تمہارے سامنے نہیں تو تمہارے بچے گواہی دیں گے کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہ سچی بات کہہ رہا ہوں۔قرآن کریم میں قرآن کریم پر ایمان۔قرآن کریم