خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 790
خطبات ناصر جلد ہشتم 290 خطبه جمعه ۱۴ نومبر ۱۹۸۰ء درمیان قائم کی جائے کوئی قوم سپر (Super) اعلیٰ نہیں ہے۔ساری قو میں ایک جیسی حیثیت رکھتی ہیں خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ایک کسی عزت اور دین اسلام کی رو سے ایک ایسا احترام پانے والی ہیں۔قوم قوم میں کوئی فرق نہیں سارے بشر برابر ہیں (بشر کے معنی عربی میں مرد اور عورت کے ہیں ) عظیم اعلان یہ کہ بشر بشر میں فرق لیکن ارشاد باری ہوا۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ (الكهف : ۱۱۱) محمد صلی اللہ علیہ وسلم جن کی عظمت خدا تعالیٰ نے یہ قائم کی کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفُلَاكَ یہ کائنات تیری خاطر پیدا کی گئی ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جس کو اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں سے بڑھ کر استعدادیں دیں کامل استعداد میں جو کسی اور کو نہیں دی گئیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن کے لیے خدا تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ ساری کی ساری استعدادیں آپ کی کامل نشو و نما پاگئیں۔آپ کامل انسان بھی بنے ، آپ کامل بادشاہ بھی بنے ، آپ کامل آقا بھی بنے ، آپ کامل بادی بھی بنے ، آپ کامل شریعت لانے والے بھی بنے ، آپ کامل طور پر عَلی خُلُقٍ عَظِيمٍ بھی ٹھہر۔سب اپنی جگہ درست لیکن آپ کے منہ سے خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کروایا۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشر مثلكم کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں اے مردو ! اور اے عورتو! کوئی فرق نہیں۔عظیم مساوات ہے اور اس کا ایک پہلو یہ ہے جو دوسری جگہ زیادہ واضح کیا گیا ہے وَلَا يَتَّخِذُ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ (آل عمران: ۶۵) یہ جو عدم مساوات انسانوں کے درمیان ہے اس کی سب سے زیادہ بھیانک شکل انسانی تاریخ میں یہ ہے کہ مذہبی لحاظ سے بعض کو اربابا من دُونِ اللہ کا درجہ دے دیا گیا اور بعض کو انسان نے اپنے فیصلے کے مطابق کم درجہ دے دیا یعنی خدا تعالیٰ کا فیصلہ نہیں انسان کا اپنا ہی فیصلہ ہے۔اُس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اتنا خون خرابہ ہوا مذہب کے نام پر کہ الامان حالانکہ اسلام نے کہا یہ تھا وَ لَا يَتَّخِذَ بَعْضًا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ - کوئی انسان کسی دوسرے کو ( خدا کے علاوہ ) رب نہیں بنائے گا۔رب ایک ہی ہے۔جس کے معنے تھے کہ کسی چیز کے حصول کے لیے اپنی کسی ربوبیت کے حصول کے لیے کسی انسان کے پاس نہیں جائے گا نہ اس کے سامنے جھکے گا نہ اپنی تکالیف دور کرنے کے لیے اس کے اوپر بھروسہ کرے گا وغیرہ وغیرہ لیکن بنا لیے انسانوں نے ارباب۔لیکن اب زمانہ آگیا کہ تمام وہ ارباب جو اللہ کے