خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 789
خطبات ناصر جلد هشتم ۷۸۹ خطبه جمعه ۱۴ نومبر ۱۹۸۰ء نتیجہ نکالا اس کے بعد وہ انسان کے سامنے آ گیا افَهُمُ الْغَلِبُونَ (الانبیاء :۴۵) مسلسل ترقی دیکھنے کے باوجود تم سمجھتے ہو کہ مسلسل ترقی کرنے والے نا کام ہو جائیں گے اور مسلسل تنزل راہوں کو اختیار کرنے والے کامیاب ہو جا ئیں گے۔عقل سلیم تو ایسا نتیجہ نہیں نکالتی۔پھر جیسا کہ بتایا گیا تھا آخری زمانہ میں جو مسیح و مہدی علیہ السلام کا زمانہ ہے، وہ مسیح اور مہدی جس کی اپنی کوئی ذاتی حیثیت نہیں بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جو غلام بھی ہے ، کامل مطیع بھی ہے، آپ سے کامل طور پر پیار کرنے والا بھی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی دعائیں لانے والا ہے کہ امت محمدیہ کے کسی اور فرد نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ دعائیں نہیں لیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جرنیل بھی ہے ، جرنیل ہے خود شہنشاہ نہیں، ایک جرنیل ہے اپنے آقا کا اس زمانہ کے لئے اور یہ خبر دی گئی تھی کہ اُس زمانہ میں ساری قو میں ایک ہو جائیں گی۔اس واسطے میں نے اعلان کیا کہ میرے نزدیک ( جو میں دیکھ رہا ہوں ) پندرہویں صدی تمام اقوام کے ایک ہو جانے کی صدی ہے اور تمام اقوام کے ایک ہو جانے کے یہ معنی ہیں کہ وہ تمام اقوام جو اسلام سے باہر ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گی جو مہدی کے ہاتھ میں ہے اور تمام وہ قومیں جو اسلام کے اندر ہیں تمام تفرقے مٹا کر اور عداوتوں کو چھوڑ کر پیار اور عاجزی کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے اس جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گی۔نوع انسانی ایک قوم بن جائے گی۔یہ ہوگا یہ ہوکر رہے گا۔بہت سے لوگ اسے آج ناممکن سمجھیں گے مگر دیکھنے والے دیکھیں گے اور مشاہدہ کرنے والے مشاہدہ کریں گے کہ خدا نے جو بشارتیں دی ہیں وہ اپنے وقت پر ضرور پوری ہوں گی۔اقوام عالم کو جو ایک قوم بننا ہے اس کے لیے پہلا اصول یہ قائم کیا گیا کہ ”خدا ایک ہے“۔اس نے تمہیں پیدا کیا تمہاری جو بھی قابلیتیں، استعداد میں ہیں اسی کی عطا ہیں کس مقصد کے لیے پیدا کیا اور مقصد یہ ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: ۵۷ ) اس کے بندے بن جاؤ اور خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس زمانہ میں انسان اپنے مقصد حیات کو سمجھنے لگے گا اور اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی زندگی کے دن گزارے گا۔دوسرا اصول جو اسلام نے دنیا کے سامنے پیش کیا ، وہ یہ تھا کہ کامل مساوات انسانوں کے