خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 788
خطبات ناصر جلد هشتم ۷۸۸ خطبه جمعه ۱۴ نومبر ۱۹۸۰ء سارے کے سارے انسان ایک خدا کی پرستش کرنے لگیں۔سارے کے سارے انسان ایک خدا کی اس وقت پرستش کرنے لگیں گے جب ایک خدا کی معرفت انہیں حاصل ہو جائیں گی۔سارے کے سارے انسان خدائے واحد ویگانہ کی اس وقت پرستش کریں گے جس وقت خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی شناخت انہیں مل جائے گی اور یہ شناخت انسان کو محمدصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے طفیل ملی۔قرآن کریم نے کھول کر خدا کی ذات کے متعلق اور اس کی صفات کے متعلق جہاں تک انسانی زندگی کا تعلق تھا حقائق انسان کے سامنے رکھے جن انسانوں نے اسلام کی نشاۃ اولی میں اس حقیقت کو سمجھا ان کی زندگی اور ان کی روح اور جسم میں سے ایک ہی آواز نکلتی تھی اَحَدُ اَحَدُ اور مولا بس۔خدا ہی خدا ہے سب طاقتوں والا ، سب کچھ کرنے والا ، جو ہوا وہ بھی اسی نے کیا جو ہوتا ہے وہ بھی وہی کرتا ہے جو ہو سکتا ہے وہ بھی اسی کے حکم سے ہو سکتا ہے۔اس پر تو گل کرنے والوں نے سینہ و دل میں اللہ کے لئے حقیقی پیار رکھنے والوں نے دنیا کو یہ نظارہ بھی دکھایا کہ لاکھوں انسان ان پر قربان کر دیئے گئے کیونکہ اس کا جب امر ہو تو قربان کر دی جاتی ہیں کا فرقو میں صداقت پر۔یرموک کے میدان میں چار لاکھ سپاہی چالیس ہزار پر قربان ہو گئے اس معنی میں میں یہ قربانی کہہ رہا ہوں اس لیے کہ خدا تعالی کا منشا یہی تھا کہ وہ ان لوگوں کی عزت کو قائم کرے اور ان لوگوں کے نصیب میں فتح ہو جو اس واحد و یگانہ کی پرستش کرنے والے اور اُسی کے لئے زندگی گزارنے والے ہیں۔جس وقت انسان کے بڑے حصہ نے طاقت کے ساتھ خدائی طاقتوں کا مقابلہ کرنا چاہا، طاقت کے ساتھ ان کی طاقتوں کو تباہ و برباد کر دیا گیا لیکن وہ جو اصل مقصد تھا کہ انسان خدا کا بندہ ہو کر زندگی گزارے آہستہ آہستہ پورا ہوتا رہا۔اسلامی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام مسلسل ترقی کرتا چلا آ رہا ہے۔میں یہ فقرہ اس کے باوجود کہتا ہوں کہ پین میں ایک موقع پر شکست بھی ہوئی لیکن میں سپین کی بات نہیں کر رہا میں تو دنیا کی بات کر رہا ہوں۔ساری دنیا میں ایک تسلسل کے ساتھ مجموعی حیثیت میں اسلام ترقی کرتا چلا گیا اور محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جنہیں اور جن کے چند رفقاء کی جماعت کو رد وسائے مکہ ، کسری و قیصر کی طاقت مٹادینا چاہتی تھی مٹائی نہیں گئی بلکہ أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَاتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا (الانبیاء : ۴۵) آہستہ آہستہ انہیں ترقی ملتی چلی گئی اور اللہ تعالیٰ نے جو