خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 778 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 778

خطبات ناصر جلد ہشتم 22A خطبہ جمعہ ۷ /نومبر ۱۹۸۰ء کے مطابق کی جاتی تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو یہ اعلان کروایا گیا قرآن کریم میں قل اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ (الکھف: ۱۱۱) کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں ، ( ہر انسان کو مرد ہو یا عورت مخاطب کر کے کہا مجھ میں اور تم میں ) کوئی فرق نہیں۔تو حاکم وقت نے اپنے میں اور ایک عیسائی میں اور ایک یہودی میں کوئی فرق نہیں دیکھا اس کے بعد کوئی فرق پیدا نہ کر سکتے تھے کوئی تفریق نہ تھی۔وہ تو خیر اہل کتاب تھے لیکن وہاں جیسیز (Gipsices) بھی تھے چپسیز کے متعلق میں نے بہت کچھ پڑھا ہے۔جب سے ان کے حالات کا ہمیں پتا لگتا ہے یورپ کی کسی قوم نے ایک دن بھی ان کو عزت نہیں دی لیکن وہ جیسی خانہ بدوش جو پھر تے بھی رہتے ہیں خانہ کمان تھا ان کا یا کسی اور شکل کا تھا اسے لئے پھرتے تھے گھوڑوں پہ، بیل گاڑیوں پر بھی پھرتے رہے ہیں۔جب میں پڑھا کرتا تھا ان کے ڈیروں پر بھی جا کے ان سے میں نے باتیں بھی کیں ، ذلیل سمجھا جاتا تھا ان کو لیکن اسلام نے ان کو اتنی عزت اور آزادی دی کہ سامنے نظر آ رہی تھیں پہاڑ میں غاریں بیسیوں سینکڑوں ، تو کہنے لگے ان غاروں میں آزادی کے ساتھ وہ رہتے تھے یعنی معاشرے میں یہ دخل بھی نہیں دیا کہ اگر تم غاروں میں رہ رہے ہو تو ” کہا کہ رہو یہ نہیں کہا کہ نہیں ہم تمہارے لئے جھونپڑے ڈال کے دیتے ہیں یا مکان بنا کے دیتے ہیں تم اس میں رہو۔رہتے رہے اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق غار میں اور پاتے رہے وہ عزت جو ایک انسان کو ہر جگہ ملنی چاہیے۔وہ مجھے کہنے لگا کہ کسی عیسائی مملکت نے اس قسم کا عدل اور انصاف بعد میں قائم نہیں کیا اس ملک میں ، وہ خود عیسائی تھا۔پھر یہ کیا ہوا کہ وہ جو سات سو سال تک وہاں حکمران رہے ان کا ایک شخص بھی وہاں نہیں رہنے دیا گیا رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا۔جب تک ہدایت پر وہ قائم رہے جب تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے مطابق اپنی زندگیاں گزارتے رہے اور آپ کے نقش قدم پر وہ چلتے رہے اس وقت تک آسمانوں کے فرشتے ہر قدم پر ان کی مدد کرتے رہے۔لیکن جب انہوں نے اپنی غفلت اور گناہ کے نتیجے میں خدا سے بُعد کی راہوں کو اختیار کیا اور اس سے دور ہو گئے تب خدا تعالیٰ کے فرشتے بھی آسمانوں سے نازل نہیں ہوئے اور ان کو کلیۂ وہاں سے مٹا دیا گیا۔اس واسطے اس دعا کا ورد ہر اس مسلمان حصے کے لئے ضروری ہے جو یہ ڈرتا ہے کہ