خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 63
خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۳ خطبہ جمعہ ۹ فروری ۱۹۷۹ء ہے اس کے بہت سے پہلو ہیں۔ہر پہلو کی طرف نہیں جایا جا سکتا۔مثالیں دی جا سکتی ہیں۔کامل شریعت لائے ، یہ پتہ لگتا ہے اس بات سے کہ درختِ انسانیت کی ہر شاخ کی پوری پرورش کرنے والی یہ ہدایت ہے مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا کہ سختی کے مقابلے میں سختی کرو۔حضرت عیسی علیہ السلام نے کہا سختی کے مقابلے میں ہمیشہ نرمی کرو۔جو انتقام کی صفت خدا تعالیٰ نے انسان میں رکھی ہے اُس کا استعمال تو کیا لیکن غلط استعمال کر دیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے۔اور جو عفو کی صفت انسان میں خدا تعالیٰ نے رکھی ہے اس کا استعمال تو کیا لیکن غلط استعمال کیا حضرت مسیح علیہ السلام نے۔اُن کے اپنے حالات تھے انسان ترقی یافتہ نہ تھا بہت ساری ملتی ہیں باتیں کہ ہم کو اُن کو بری الذمہ قرار دینا پڑتا ہے ہمیں لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ موسیٰ علیہ السلام اپنی شریعت میں کامل نہیں تھے قرآن عظیم کے مقابلہ میں اور عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت قرآن عظیم کے مقابلہ میں ایک کامل شریعت نہیں تھی۔وہ تو شریعت تھی ہی نہیں اُن کی لیکن جو اُن کی ہدایتیں تھیں جو انہوں نے دراصل یوں مجھے کہنا چاہیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ لام نے جو کچھ ترمیمیں کیں موسوی شریعت میں ، وہ بھی کامل نہیں تھیں۔اب انہوں نے اعلان تو یہی کیا تھا کہ میں موسوی شریعت کو قائم کرنے کے لئے آیا ہوں لیکن زمانہ کے بدلنے کے ساتھ ان انبیاء کی زندگی میں ہمیں نظر آتا ہے کہ بعض جو باتیں تھیں مثلاً اُمّتِ موسویہ میں موسیٰ کی شریعت میں جو بعض باتیں تھیں اس میں وہ ترمیم کر جاتے تھے بدلے ہوئے حالات کی وجہ سے لیکن قرآن کریم نے کہا کہ جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا (الشوری: ۴۱) کہ برائی کا بدلہ اس سے اتنی ہی برائی ہوسکتا ہے۔انتقام بدلہ جو ہے جتنا وہ ہے اس سے زیادہ نہیں فَمَنْ عَفا اگر کوئی معاف کر دے واصلح اور معاف کرنے میں اصلاح مدنظر ہو اور اصلاح متوقع ہو وہ شخص اپنی عقل اور سمجھ کے مطابق اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ شخص ایسا ہے کہ اگر میں نے اس کو معاف کر دیا تو اس کی اصلاح ہو جائے گی تو وہ معاف کر دے فَاجرة على الله اس کو کیا گھاٹا ہے اللہ تعالیٰ اجر دے دے گا اس کو۔اسلام نے یہ کہا کہ جو گناہ کرنے والا ، ظلم کرنے والا ہے۔اصل مقصود اس کی اصلاح ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے بیان کے مطابق اپنا انتقام لینا اصل مقصود نہیں یا السلام