خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 771
خطبه جمعه ۳۱ اکتوبر ۱۹۸۰ء خطبات ناصر جلد هشتم یعنی عمارتیں بنالیں انہوں نے بڑی بڑی اور ہمارے ہسپتالوں نے جتنی تعداد میں وہ تھے اتنی تعداد میں ہی سکولوں کے اخراجات برداشت کئے۔شروع میں بہت زیادہ اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں پھر حکومت کی امداد ملنی شروع ہو جاتی ہے۔وہاں میں نے جو چار ڈاکٹر بھیجے ( چار ہسپتال ہیں غانا میں ) چار کا مجموعی سرمایہ جو میں نے منظور کیا بیرون پاکستان کی جماعتوں سے وہ دو ہزار پونڈ تھا۔دو ہزار کو یاد رکھیں دو ہزار پونڈ۔دو ہزار پونڈ آج کل ان کی کرنسی گری ہوئی ہے اس کے لحاظ سے بھی قریباً زیادہ سے زیادہ دس ہزارسیڈیز بنیں گے اس سے کام شروع کیا دعاؤں کے ساتھ عاجزی کے ساتھ۔جو ڈاکٹر جاتے تھے ان کو کہتا تھا کہ خدا تعالیٰ سے برکت حاصل کرنے کی کوشش کرنا ورنہ نا کام ہو جاؤ گے اور اب جب میں چلا ہوں تو میں نے عبدالوہاب بن آدم سے پوچھا کہ سارے اخراجات نکال کے تمہارے پاس ریز رو میں کتنی رقم ہے کام دس ہزار سیڈیز سے شروع ہوا تھا انہوں نے کہا اب پچیس لاکھ روپے بینک میں ریزور پڑا ہوا ہے۔اس واسطے وہاں ہمیں کوئی دقت نہیں۔وہ کہتے ہیں یعنی حکومت مطالبہ کرتی ہے کہ مریضوں کے لئے اور وارڈز بنائیں۔تو ہمارے پاس پیسہ ہے ہم کہتے ہیں تم ہمیں سیمنٹ دے دو وہاں کنٹرول پر ہے سیمنٹ تنگی ہے۔میرے جانے کا ان کو یہ بھی فائدہ ہوا اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ برکت دی کہ سو بوری سیمنٹ کی مشکل سے ملتی تھی۔بعض ہماری عمارتیں سکولوں ہسپتالوں کے بعض حصے سال، ڈیڑھ سال سے شروع ہوئے ہوئے ہیں اور وہ ختم ہی نہیں ہو چکے تھے کیونکہ سیمنٹ نہیں مل رہا۔اب انہوں نے کہا ہے شاید دو ہزار یا اڑھائی ہزار بوری ایک پرمٹ میں سیکشن (Sanction) کر دی ہے انہوں نے۔مجھے موقع ملا میں نے ان کے وزرا کو سمجھایا۔میں نے کہا کام کر رہے ہیں ، تمہاری خد مت کر رہے ہیں دولت کمانے تو نہیں آئے اس ملک میں خادم کی حیثیت سے آئے ہیں اور تم جانتے ہو۔سب جانتے ہیں تو ہمیں یہ روکیں کیوں ستا رہی ہیں۔تو اللہ نے فضل کیا انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہونے دیں گے۔اس وقت جو دورے کا پس منظر ہے میرے وہ آپ کو بتا رہا ہوں وہ ہے تحریک جدید یعنی جو کام حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شروع کیا بڑی دعاؤں کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی منشا