خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 769
خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۶۹ خطبه جمعه ۳۱/اکتوبر ۱۹۸۰ء پچھلے سال میں نے ٹارگٹ پندرہ لاکھ سے بڑھا کر اٹھارہ لاکھ کر دیا اور اس مخلص جماعت نے اٹھارہ لاکھ سے زیادہ کے وعدے کر دیئے لیکن اس وقت تک اُس نسبت سے وصولی نہیں ہوئی۔پچھلے سال سے زیادہ ہے وصولی لیکن اس نسبت سے وصولی نہیں ہوئی۔اس لئے ایک تو میں اس طرف آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اٹھارہ لاکھ بہر حال رقم جمع ہونی چاہیے۔تحریک جدید کے کام میں اللہ تعالیٰ نے اس قدر برکت ڈالی کہ ساری دنیا میں اس کی شعاعیں ہمیں نظر آنے لگی ہیں اس میں کوئی کمی اور خامی نہ رہ جائے اور یہ مقروض نہ ہو جائے۔کمی تو انشاء اللہ جس طرح بھی ہو گا نہیں رہنے دیں گے لیکن پریشان نہ کریں تحریک جدید کے ادارہ کو۔اٹھارہ کی بجائے اٹھارہ لاکھ پچاس ہزار کے وعدے ہو گئے لیکن وصولی میں اس وقت تک پچھلے سال سے صرف تیس پینتیس ہزار کی زیادتی ہے حالانکہ ڈیڑھ لاکھ کی زیادتی ہونی چاہیے تھی۔ایک چیز جو بڑی نعمت ہے اللہ تعالیٰ کی اور اسی کی عطا ہے وہ تدریجی ترقی جماعتہائے احمدیہ پاکستان کی ہے۔پہلے سال جب تحریک شروع ہوئی ۳۶۔۱۹۳۵ء میں تو کل وصولی ایک لاکھ بھی نہیں تھی۔ستانوے ہزار آٹھ سو اٹھاسی کی وصولی تھی۔پھر دس سال کے بعد ۴۵۔۱۹۴۴ء میں یہ آمد بڑھ کر تین لاکھ پینتیس ہزار چھ سواٹھتیں ہو گئی پھر ۴۵ - ۱۹۴۴ء کا سال ہے اس میں ایک اور خصوصیت بھی ہے۔میں نے ایک دفعہ ان کے رجسٹر منگوائے اور ان کا مطالعہ کیا تو مجھ پر یہ بات عیاں ہوئی کہ ۴۵۔۱۹۴۴ء سے قبل ہندوستان سے باہر تحریک جدید کا کوئی چندہ نہیں تھا رجسٹروں میں۔دیتے ہوں گے بعض لوگ احمدی تو ہو گئے تھے۔قربانی بھی کرتے ہوں گے لیکن منظم طور پر ان کی مالی قربانیاں رجسٹروں میں باندھی نہیں گئی تھیں۔ایک پیسہ بھی نہیں تھا اور پھر یہ حال ہے کہ کروڑوں روپے کی آمد تحریک جدید کی مد میں دنیا کے سارے ممالک کی آمد اگر کٹھی کی جائے تو ہو جاتی ہے اور پاکستان سے باہر جماعت احمد یہ مضبوطی کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگئی ہے اور یہاں سے ایک پیسہ بھی باہر بھجوانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔اگر پڑتی اور قانون فارن اینچ کی تنگی کی وجہ سے پیسہ باہر نہ جانے دیتا تو باہر کے کاموں میں روک پیدا ہوتی جاتی مگر قبل اس کے کہ دنیا میں اس قسم کی تنگی ظاہر ہوتی اللہ تعالیٰ نے جماعت کو اس قسم کی تنگیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ایسا سامان پیدا کر دیا کہ