خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 761
خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۶۱ خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۸۰ء اندر عیسائیوں کے اندر پیدا ہوئی تھی یعنی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جسم کے ہر پور سے خوشی کے دھارے بہہ رہے ہیں۔اتنے خوش اتنے ہشاش بشاش کہ عید والے دن آپ میں سے بعض کے چہروں پر وہ خوشی نہیں ہوگی جو ان لوگوں کے چہروں پر وہ آئی ہوئی تھی۔پھر میں نے جو ہمارا وہاں کا ہے آرکیٹیکٹ (Architect) اس کا نام لیا۔میں نے کہا کہ آ کے رکھو تم بھی پتھر۔وہ بڑا خوش، جذباتی ہو گیا، ایموشنل (Emotional) آنکھوں میں آنسو آگئے اس کے۔پھر میں نے کہا وہ پیڈ روآباد (Pedroabad) نام ہے اس قصبے کا ، کوئی کم و بیش تین ہزار کی آبادی ہے پیڈ رو آباد کی جو سب سے بڑھیا عورت ہے وہ آ کے پتھر رکھے۔تو ایک مائی جس کو دو دوسری عورتوں نے سہارا دے کے چلا رہی تھیں اس نے آ کے پتھر رکھا۔میرا خیال تھا کہ تین چارسال کا بچہ ہو گا سب سے چھوٹا تو میں نے کہا جو یہاں پیڈ رو آباد کا سب سے چھوٹا بچہ ہے وہ آ کے پتھر رکھے۔تو ایک ماں اپنی گود کا بچہ لے کے آگئی۔وہ تو پتھر اٹھا بھی نہیں سکتا تھا اور اس ہجوم میں وہ دھکم پیل میں گھبرا بھی گیا ہوا تھا۔اس کے ہاتھ میں میں نے پتھر پکڑا دیا۔پھر میں نے ماں کو کہا تو اس کی طرف سے رکھ دے یہ تو اس قابل نہیں ہے۔بس اس سے رکھوادیا اور چھلانگیں مارر ہے تھے۔گیت گا رہے تھے اپنی زبانوں میں اور میں نے پوچھا کہ یہ کیا گارہے ہیں۔تو انہوں نے کہا ہم اپنی زمین پر خوشی کے گانے گا رہے ہیں۔اپنی زمین پہ مسجد بن رہی تھی اور وہ خوشی کے گانے۔ایک دکان پر گئے تو وہاں کام کرنے والی ایک عورت نے کہا کہ میں پیڈ رو آباد کی رہنے والی ہوں۔میں تو یہاں کام پر تھی کل۔جمعہ والے دن ہم گئے اگلے روز ہی لیکن جب واپس گئی تو میں نے سارا کچھ سنا جو وہاں ہوا اور بڑی وہ بھی ایکسائیڈ (Excited)۔اور ایک بارہ میل سے ایک میئر صاحب آگئے دھکے کھاتے ہوئے۔ان لوگوں نے تو ایک منٹ میرا جو میرے گر دسرکل (Circle) ایک بنایا ہوا تھا احاطہ کیا ہوا تھا میرا وہ نہیں تو ڑا۔میں توڑ کے نکلتا تو پھر وہاں آ کے میرے ارد گرد جمع ہو جاتے سارے۔ایک شخص کو میں نے دیکھا بڑے اچھے کپڑے پہنے ہوئے وہ دھکے کھاتا ہوا میری طرف بڑھ رہا ہے۔مجھے یہ خیال آیا کہ کوئی احمدی ہے جو دیر بعد پہنچا ہے، بنیاد کے وقت نہیں پہنچ سکا۔تو اب یہ میرے پاس آرہا ہے سلام کرنے کے لئے۔جب وہ اتنا قریب