خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 754
خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۵۴ خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۸۰ء کے معنی سمجھنے میں ان کو دقت ہوئی۔بہر حال ایک حصہ اعراب کا کہتے ہیں امنا ہم مومن ہیں۔قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے انہیں کہہ دو تم مومن نہیں ہو۔آیت کا اگلا حصہ میں پہلے لے لیتا ہوں۔وَلَمَّا يَدُ خُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمُ ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا اس لئے تم مومن نہیں ہو قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا بِهِ الله جو دلوں کا حال جاننے والا ہے اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ ان کو کہہ دوستم مومن نہیں ہو۔قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا اس کے باوجو د اللہ تمہیں اجازت دیتا ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان کہو۔بڑی عجیب آیت ہے۔میں نے وہاں اس کو سمجھایا۔میں نے کہا دیکھو قرآن کریم میں یہ لکھا ہے۔اس آیت کی روشنی میں یہ لوگ ہمیں جو مرضی کہتے رہیں ہم ان کو ناٹ مسلم ( Not Muslim) نہیں کہہ سکتے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہم مومن ہیں۔ہم ان کو زیادہ سے زیادہ ناٹ مومن کہہ سکتے ہیں، ناٹ مسلم نہیں کہہ سکتے ، یہ جو مرضی کہتے رہیں۔سمجھدار لوگ ہیں انہوں نے مسئلے کو سمجھ لیا اور ایک سب سے بڑے اخبار نے لکھ دیا پھر نمایاں کر کے لکھ دیا مسلمانوں کی جماعت کے امام سے وہاں یہ باتیں ہوئیں۔ان کو وہاں بعض لوگوں نے تنگ کیا کہ ہم نے ان کو غیر مسلم قرار دے دیا تم نے کیوں ان کو لکھ دیا مسلمان؟ تو اس نے ایک سب ایڈیٹوریل (Sub editorial) لکھا۔ایڈیٹوریل ایک بڑا لکھنے کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بھی لکھ دیتے ہیں یہ۔اچھا کوئی میرے خیال میں پندرہ بیس سطروں کا ہوگا۔اس کے آخری دو فقرے یہ تھے کہ دس ملین (Ten Million) کی ایک جماعت اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہے۔جب تک یہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے رہیں گے ہم ان کو مسلمان لکھتے رہیں گے، تو ان کو تو سمجھ آ گیا مسئلہ وہاں۔بہر حال ساری دنیا کو سمجھ آ جائے گا آپ فکر نہ کریں انشاء اللہ۔میں نے بتا یا اکیس اخباروں نے وہاں یہ باتیں جو تھیں کسی نے زیادہ تفصیل سے کسی نے کم وہ لکھیں۔پھر اس کے بعد ہالینڈ میں گئے۔وہاں باتیں کیں ان کی۔ان کو سمجھایا کہ یہ جو آپس میں انسان لڑ بھی پڑتا ہے انسانوں سے، اس کے مذہب کا تو کوئی قصور نہیں ہوتا۔پہلی دفعہ ذرا ان کو جھنجھوڑنا پڑا۔میں نے کہا دیکھو دو عالمگیر جنگیں ورلڈ وار (World War) اس صدی میں