خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 721 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 721

خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۲۱ خطبه جمعه ۱۵ راگست ۱۹۸۰ء اگر تم صدق اور ایمان پر قائم رہو گے تو فرشتے تمہیں تعلیم دیں گے خطبه جمعه فرموده ۱۵ اگست ۱۹۸۰ ء بمقام مسجد فضل - لندن حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ البقرہ کی درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی۔وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَعُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ - (البقرة : ۲۵۶) ( ترجمہ : وہ اس کی مرضی کے سوا اس کے علم کے کسی حصہ کو بھی پانہیں سکتے اس کا علم آسمانوں پر بھی اور زمین پر بھی حاوی ہے اور ان کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں اور وہ بلند شان والا اور عظمت والا ہے۔) اس کے بعد فرمایا اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر حاوی ہے، کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں، ہر چیز ہر وقت اس کی نگاہ میں ہے۔پھر ہر چیز سے ہر آن اس کا ذاتی تعلق ہے۔اسی نے انسان کو علم کے حصول کی طاقتیں بخشی ہیں اور تسخیر عالم کی قو تیں عطا کی ہیں لیکن انسان اپنی حصول علم کی کاوش میں اتنا ہی بڑھ سکتا ہے جتنا خدا چا ہے۔اس سے آگے وہ جاہی نہیں سکتا۔ایک طرف اللہ تعالیٰ کے علم کی غیر محدود وسعت اور اس کی غیر محدود قدرت اور دوسری طرف انسان کو حصول علم کی عطا ہونے والی محدود استعداد سے تین باتیں مستنبط ہوتی ہیں۔اول یہ کہ ہمیں خدا داد استعداد