خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 701 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 701

خطبات ناصر جلد هشتم 2+1 خطبہ جمعہ اار جولائی ۱۹۸۰ء طرف توجہ دلائی۔حضور نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا یہ باتیں میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ تم جو یہاں رہتے ہو تو یہاں کے لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچا ؤ اگر تم تبلیغ کرو گے اور اسلام پر یہ لوگ کوئی اعتراض کریں گے تو خدا تعالیٰ خود تمہیں اس کا جواب سکھائے گا تم کسی اعتراض کا خوف دل میں لائے بغیر نڈر ہو کر ان لوگوں کو تبلیغ کرو اور یا درکھو کہ احمدیت اس اسلام کا نام ہے جسے درمیانی زمانہ کی بدعات سے پاک کر کے پھر اس کی اصل شکل میں پیش کیا گیا ہے اس پر کسی قسم کا اعتراض وارد نہیں ہوسکتا اگر کوئی غلط نہی یا نہ سمجھی کی وجہ سے اعتراض کرتا ہے تو وہ یقینا غلطی پر ہے۔خدا تمہیں خود ایسا جواب سکھائے گا جس سے اعتراض کرنے والے کی تسلی ہو جائے گی۔حضور نے انہیں ایک اور اہم امر کی طرف بھی توجہ دلائی فرما یا اس ضمن میں دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہر احمدی یہاں دلیری کے ساتھ اسلامی زندگی گزارے تا کہ وہ اسلامی تعلیم کے حُسن کا اپنی زندگیوں میں نمونہ پیش کر کے دوسروں کو اس کا گرویدہ بنا سکے اور آخر میں فرمایا اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے وہ ہمیں دوسروں کے لئے اسلامی تعلیم کا نمونہ بنائے اور ان کی ہلاکت کا سبب ہمیں نہ بنائے۔اس بصیرت افروز خطبہ کے بعد جو چالیس منٹ تک جاری رہا حضور نے جمعہ اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھا ئیں۔احباب اس جمعہ میں بھی فرینکفرٹ کے دور دراز علاقوں اور اس کی نواحی بستیوں سے بہت کثیر تعداد میں آئے ہوئے تھے۔مسجد کا مسقف حصّہ مردوں سے اور ملحقہ ہال مستورات سے پوری طرح بھرا ہوا تھا۔اس روز بھی موسم خراب تھا اور وقفہ وقفہ سے بارش ہوتی رہی تھی اور نماز کے وقت بھی گہرا ابر چھایا ہوا تھا اس کے باوجود بہت سے احباب کو مسجد کے پہلو میں کھلے آسمان کے نیچے نماز ادا کرنا پڑی۔روزنامه الفضل ربوه ۷ /اکتوبر ۱۹۸۰ ء صفحه ۲ تا ۴)