خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 669 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 669

خطبات ناصر جلد ہشتم خطبه جمعه ۱/۲۵ پریل ۱۹۸۰ء آتا ہو۔آج کی دنیا بڑی علمی ترقی کر گئی ہے لیکن مفلوج علم رکھتی ہے کیونکہ وہ قرآن کریم سے کٹی ہوئی ہے اور ان کی غلطی نکالنا ہمارا کام ہے۔ہم ان کی غلطی نکالتے ہیں اور ان کو ماننا پڑتا ہے کہ درست کہہ رہے ہیں آپ کہ ہمارے اندر یہ خامیاں آگئی ہیں۔مثلاً قرآن کریم نے دکھ دور کرنے تھے نا۔اعلان کیا کہ تمہارے دکھ دور کرنے کے لئے یہ ضروری تھا کہ انسان میں معاف کرنے کا خُلق ہو یعنی وہ موقع اور محل پر معاف کرنا جانتا ہو۔۷۸ء میں ہی فرینکفرٹ کی پریس کانفرنس میں میں کچھ لوگوں کے دستور سے علیحدہ ہفتا ہوں۔میں کوئی بریف نہیں دیا کرتا۔میں باتیں کر کے کہا کرتا ہوں کہ جو مرضی مجھ سے سوال کرو میں جواب دوں گا۔کچھ حجاب سا تھا ان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔تو میں نے کہا اچھا میں بات شروع کر دیتا ہوں۔میں نے ان سے تین باتیں کیں۔ایک یہ تھی ، میں نے کہا دیکھو! تمہاری تہذیب بڑی ترقی یافتہ ہے بعض پہلوؤں سے کوئی شک نہیں لیکن تمہاری تہذیب نے تمہیں معاف کرنا نہیں سکھایا۔فرینکفرٹ جرمنی میں ہے۔میں نے کہا جرمنی نے اس صدی میں دو عالمگیر جنگیں لڑیں۔یہ اتفاق کی بات تھی کہ دونوں دفعہ جرمنی ہار گیا اور دونوں دفعہ فاتح قو میں جو تمہاری ہم مذہب تھیں اور ہم کلچر تھیں تمہاری تہذیب بھی ایک اور تمہارے عقائد بھی ایک تھے تمہیں انہوں نے معاف نہیں کیا اور وہ سزا دی ہے کہ تمہاری نسلوں کو بھی کچل کے رکھ دیا۔کہتے ہاں یہ ٹھیک ہے۔پھر میں نے بتایا کہ ہمارے سامنے جو اُسوہ رکھا گیا اور جو اسلام پیش کرتا ہے وہ یہ ہے پہلے میں نے نام نہیں لیا) میں نے کہا ایک شخص تھا اس کے شہر والوں نے اسے دکھ دینا شروع کیا اور تیرہ سال تک جتنا دکھ وہ اسے پہنچا سکتے پہنچایا۔پھر وہ شخص مجبور ہوا اس نے اپنا شہر چھوڑ دیا۔پھر وہ دور کے مقام پر چلا گیا اور وہاں اس نے رہائش اختیار کی۔اس کے شہریوں نے وہاں بھی اس کا پیچھا نہ چھوڑا۔وہاں حملہ آور ہوئے۔وہاں بھی اس کے لئے دکھ کے سامان پیدا کر دیئے۔یہ حالات قریباً ہمیں اکیس سال رہے۔میں نے کہا اس کے بعد حالات پلٹے اور پھر میں نے نام لیا۔میں نے کہا پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قدوسیوں کے ساتھ مکہ میں آئے اور گھیراؤ کیا اور اتنے حالات پلٹ گئے تھے کہ مکہ والوں کو یہ جرات نہیں تھی کہ میان سے تلوار نکال سکیں اور ان میں