خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 665 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 665

خطبات ناصر جلد هشتم خطبه جمعه ۱/۲۵ پریل ۱۹۸۰ء گئے ہیں اے کامل انسان۔کامل انسان کے اس خطاب سے اس سورۃ کو شروع کیا گیا ہے۔اے کامل انسان ! حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ترجمہ کیا ہے اے کامل قوتوں والے مرد۔ایک ہی چیز ہے ، کامل انسان یا کامل قوتوں والا انسان دو مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے۔ایک یہ کہ اپنی استعداد میں وہ کامل ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کو اتنی استعدادیں دیں ہر شعبہ زندگی میں کہ کسی اور کو دیسی نہیں ملیں۔یہاں مخاطب ایک ہے انسان نہیں مخاطب۔طہ میں ایک فردِ واحد مخاطب ہے اور وہ محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور یہ آپ کی شان اور عظمت آپ کے اندر رکھی اپنی رحمت سے، نوع انسان کے لئے رحمت بن کے آئے۔ان کو مخاطب کر کے یہاں کہا گیا ہے کہ اے کامل انسان ! یعنی جو استعداد کے لحاظ سے ایسا ہے کہ کسی اور انسان میں خدا تعالیٰ نے یہ استعداد نہیں رکھی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں رکھی گئی ہے۔اور دوسرا پہلو اس کا یہ ہوتا ہے کہ جو قو تیں اور استعداد میں ملی تھیں ان کی صحیح اور کامل نشو نما ہوئی یا نہیں ہوئی ایک شخص کی۔(اب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہٹ کے بات کرتا ہوں ) آج ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے اندر بڑی استعدادیں ہیں لیکن ماں باپ خیال نہیں رکھتے۔وہ گلی میں جاتا ہے، اپنے ہمسایوں سے ملتا ہے اور آوارگی کی اس کو عادت پڑ جاتی ہے اور وہ بچہ جو ذہن رکھتا تھا ایسا کہ جب وہ ایم۔ایس۔سی کا امتحان دیتا تو فرسٹ آتا وہ میٹرک میں فیل ہو جاتا ہے۔تو استعداد کے لحاظ سے بڑی استعدادی طاقتیں تھیں لیکن عملاً نشو و نما نہیں ہوسکی۔تو یہاں طلہ میں ہر دو پہلو میں کمال ہے۔استعداد کے لحاظ سے کامل اور نشو و نما کے لحاظ سے کامل۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑا ایک لطیف فقرہ ایک جگہ لکھا ہے کہ اسلام کی تعلیم درخت وجود انسانی کی ہر شاخ کی پرورش کرتی ہے اور اسے ثمر آور بناتی ہے۔انسان کی ہر شاخ اس کا خلق ہے نا۔اس کی ہر قوت اور استعداد ہے اور یہی مضمون یہاں بیان ہونا تھا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہ اے کامل قوتوں والے انسان ! تجھے استعدادیں کامل دی گئی تھیں۔کامل پرورش کا ، کامل تربیت کا سامان خدا تعالیٰ نے تیرے لئے کیا تا کہ تو بنی نوع انسان کے لئے اُسوہ حسنہ بن جائے۔مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى