خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 664 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 664

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۶۴ خطبه جمعه ۱/۲۵ پریل ۱۹۸۰ء انشاء اللہ تعالیٰ کہ جماعت اس کو سنبھالے نہیں۔اس کو میں انعامی وظیفہ نہیں کہتا۔پہلے وہ غلطی سے سمجھے نہیں۔ایک میں نے بورڈ بنایا تھا انہوں نے اسے انعامی وظیفہ سمجھ کے ایک منصوبہ میرے سامنے رکھ دیا تھا۔میں نے وہ واپس کر دیا۔اس کو ادا ئیگی حقوق طلبا و طالبات کا نام دے کر۔یہ ان کا حق ہے ان کا انعام نہیں۔انعامی وظیفہ میں تصور یہ ہے کہ ایک کروڑ پتی کا بچہ بھی مثلاً اگر وہ ایم ایس سی فزکس میں یونیورسٹی میں Top کرتا ہے اور وہاں کوئی تمغہ ہے سونے کا تو وہ یہ نہیں دیکھیں گے کہ اس کے گھر میں سونے کے انبار پڑے ہیں وہ اسے تمغہ دے دیں گے۔اس کو کہتے ہیں انعامی وظیفہ۔یہ ہے طالب علم کا یہ حق ہے۔ذہین طالب علم کا یہ حق ہے کہ اس کی ذہنی ترقی اور نشوونما کا خیال رکھا جائے۔یہ اس حق کی ادائیگی ہے۔اس لئے یہ ہے وظیفہ ادا ئیگی حقوق طلبا و طالبات۔مجھے خدا نے بخیل نہیں بنایا میرا سینہ بڑا وسیع ہے۔ویسے گرفت بھی میں بڑی سخت کرتا ہوں۔میں نے سوچا میں نے اعلان کر دیا۔میں نے سوچا اگر دس ہزار احمدی بچہ ایسا ہو پھر۔میں نے کہا پھر بھی۔اسی لئے میں نے کہا تھا ہم آدھی روٹی کھالیں گے لیکن اپنے بچوں کے ذہنوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گے انشاء اللہ۔ایک اور چیز جس کا شاید میں نے اعلان کیا یا نہیں کیا وہ یہ ہے کہ جو امیر بچہ ایم ایس سی فزکس کے امتحان میں فرسٹ آتا ہے اس کی بھی Appreciation ( قدر ) ہونی چاہیے۔اس واسطے ان کے لئے چوٹی کے جو تین بچے ہیں ان کے لئے تین تمغے ہوں گے۔یہ ابھی میں نے فیصلہ نہیں کیا کہ وہ تینوں سونے کے ہوں گے وزن کم کر کے۔ایک تو یہ طریقہ ہے نا کہ سونے کا ، چاندی کا پھر کانسی کا بنا دیا میری طبیعت اس کو پسند نہیں کرتی۔تو میں نے یہی سوچا ہے کہ سونے کا زیادہ وزنی ،سونے کا کم وزنی ، سونے کا اس سے کم وزنی کیونکہ دھاتوں میں اس وقت سونا سب سے زیادہ عزت والی دھات سمجھی جاتی ہے صحیح یا غلط انسانی دماغ میں۔تو ہم نے ان کی عزت افزائی کرنی ہے ان کو وہ دیں گے انشاء اللہ۔میں نے یہ جو کہا کہ قرآن کریم کے بغیر آپ ترقی کر ہی نہیں سکتے علمی میدانوں میں بھی ، نہ آپ نہ آپ کے بچے۔یہ اس لئے کہا کہ اللہ تعالیٰ سورۃ طہ میں فرماتا ہے کہ اس کے معنے کئے