خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 660 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 660

خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۶۰ خطبه جمعه ۲۵ را پریل ۱۹۸۰ء پس ہر شعبہ زندگی میں اور ہر علم کے میدان میں حقیقی را ہنما قر آن کریم ہے۔ایک چھوٹی سی مثال دے دوں۔حساب کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ بندھی ہوئی چیز ہے اور بڑی واضح ہے۔اس میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔دو اور دو چار بنتے ہیں۔حساب کے متعلق یورپ کا دماغ اس نتیجہ پر پہنچا اور ان کے چوٹی کے مفکرین نے اس بات کو تسلیم کیا کہ جو حساب ہے اس کی ابتدا مفروضات پر ہے۔جب تک بعض چیزیں فرض نہ کی جائیں حساب نہیں آگے چلتا۔یہ کہتا ہے ہمیں یورپ لیکن اس کے مقابلہ میں قرآن کریم ہمیں یہ کہتا ہے کہ عَدَدَ السنينَ وَالْحِسَابَ (یونس : ۶) که حساب کی بنیا د حقائق کا ئنات پر ہے۔بنیادی طور پر ان کا Conception ( تصور ) بدل گیا اور ہماری عقل اور سمجھ یہ کہتی ہے کہ جو قرآن کریم نے فرمایا وہی درست ہے۔یہ لمبا مضمون ہے۔میں اس حصہ کو لمبا نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اصل میں اس سے میرا تعلق نہیں۔بہر حال جو طالب علم آگے جا کے ایم۔اے کر رہے ہیں، ایم۔ایس۔سی کر رہے ہیں، پی۔ایچ۔ڈی کر رہے ہیں وہ اس کے بعد تحقیق کر رہے ہیں۔تحقیق کے میدان میں بعض ایسے لوگ ہیں جو پروفیشنلی (Professionally) ساری عمر اسی میں لگے رہتے ہیں ڈاکٹر سلام کی طرح۔انہوں نے فزکس کی جو سندیں حاصل کرنے کا زمانہ تھا وہ تو لمبا عرصہ ہوا وہ گزار چکے۔اب ہر وقت وہ لگے رہتے ہیں۔ان کا دماغ سوچتا ہے چونکہ وہ ایک احمدی فریسٹ (Physicist) ہیں اس لئے قرآن کریم ان کی راہنمائی کرتا ہے۔ان کے دماغ میں آجاتی ہے روشنی قرآن کریم سے۔یہ تو پھر وہ میدان ہیں علم کی روشنی کے جو غیر محدود ہیں دو وجوہات کی بنا پر۔ایک اس لئے کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہونے کی وجہ سے غیر محدود معانی پر مشتمل ہے اور اسی کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ قرآن کریم کا ئنات کی ہر شے سے تعلق رکھنے والا ہے۔یہ جو ستارے ہیں ، یہ جو Space ہے ستاروں سے بھی پرے ہمیں کچھ پتا نہیں کیا ہے۔ابھی تک انسان وہاں نہیں پہنچا۔قرآن کریم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ جہاں تک ستارے ہیں، جہاں ابھی تک ہماری آنکھ نے تو کیا پہنچنا ہماری بڑی سے بڑی دور بین بھی نہیں پہنچی بلکہ جو بڑی سے بڑی دور بین ہے اس کے متعلق بھی اس علم سے تعلق رکھنے والے کہتے ہیں کہ اس نے پنجابی کا محاورہ ہے