خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 650
خطبات ناصر جلد ہشتم خطبه جمعه ۲۱ / مارچ ۱۹۸۰ء ہی نے کرنا ہے۔یہ انسان کا کام نہیں کہ وہ اس میدان میں کو دے اور یہ دعویٰ کرے کہ اسے کسی طاقت نے یہ حق دیا ہے یا یہ طاقت دی ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ خدا اور رسول کا دشمن کون ہے اور دوست کون۔قرآن کریم نے اس سلسلہ میں ایک تو نہایت ہی اہم اور بنیادی بات انسان کے سامنے رکھی اور اس کی وضاحت کے لئے بہت سی تفاصیل بیان کیں۔اس وقت میں مختصراً اس بنیادی چیز کو لے کے قرآن کریم کی تعلیم آپ کے سامنے رکھوں گا۔b اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيم - قُلْ اَطِيْعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْكَفِرِينَ - (ال عمران: ۳۲، ۳۳) محبت اور دشمنی کے بنیادی اصول ان دو آیات میں بیان کئے گئے ہیں۔خدا تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتا ہے کہ یہ اعلان کر دو ان كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو تمہارا یہ دعوئی اسی صورت میں سچا ثابت ہوگا کہ میری پیروی کرو۔اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے قصور تمہیں بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔قُلْ أَطِيعُوا اللہ تو کہہ کہ اتباع نبوی میں یہ صداقت مضمر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی بھی اطاعت کرتے ہو لیکن اگر وہ یہ بات نہ مانیں اور اپنی محبت یا دشمنی کی بنیاد اس بنیاد پر نہ رکھیں کہ کفر کے نتیجہ میں محبت باری سے محرومی اور اتباع کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا حصول ہے تو انہیں جاننا چاہیے کہ کافروں سے تو اللہ تعالیٰ محبت نہیں کرتا۔اِن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللہ میں ایک دعوی کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ یہ دعویٰ وہی کرے گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا۔حقیقی معنی میں وہی کرے گا۔ویسے جو دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہیں دعویٰ ظاہری طور پر وہ بھی کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کے خواہاں ہیں۔یہاں اس دعویٰ کے ساتھ اس آیت کا جو مضمون ہے وہ یہ بات بھی بتا رہا ہے کہ ہر مقصود کے حصول کے لئے ایک سیدھا راستہ ہے صراط مستقیم۔قیم ہے۔صرف روحانی مقاصد کے حصول کے لئے نہیں بلکہ دنیا کی زندگی میں مقصد دنیوی ہو یا دینی اس زندگی