خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 634
خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۳۴ خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۰ء رپورٹیں ہوں گی اور میرے پاس آئیں گی اور ایک سال کے اندر اندر ہر گھر میں تفسیر صغیر کا ایک نسخہ اور پانچ جلدیں تفسیر کی ہو جانی چاہئیں۔جو طاقت رکھتے ہیں وہ تو اگلے جمعہ سے پہلے پہلے خرید لیں۔مجھے یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ آپ کی ضرورت کے مطابق ربوہ میں جلد میں موجود بھی ہیں یا نہیں یا چھپوانی پڑیں گی۔اس واسطے میں نے ایک سال لگایا ہے کیونکہ پھر میں ذمہ دار ہوں انشاء اللہ کہ وہ آپ کو ایک سال کے اندریل جائیں۔دوسری بات میں اپنے طلباء کے متعلق کچھ کہنی چاہتا ہوں۔میرے دل میں بڑی شدت سے یہ ڈالا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ پر ذہنی عطا کے طور پر جس قدر پہلے رحمتیں کرتا رہا ہے اس سے بہت زیادہ اس اگلے زمانے میں کرنے والا ہے انشاء اللہ اور جماعت کا فرض ہے کہ ذہن کو بچائے محفوظ کرے اور اس کی نشو ونما کا انتظام کرے۔یہ سکیم جیسا کہ میں نے مختصراً جلسہ سالانہ پر بتائی تھی پانچویں جماعت سے عملاً شروع ہوتی ہے۔ویسے شروع ہو جاتی ہے اس کلاس سے جس میں سکول یا حکومت کا نظام تعلیم امتحان لیتا ہے اکثر امتحان تو سکول میں ہوتے ہیں چوتھی تک غالباً سارے ہی امتحان سکول میں ہوتے ہیں۔پانچویں کا پہلا امتحان ہے جہاں محکمہ تعلیم بیچ میں آ جاتا ہے۔وہ بھی شاید ساروں کا نہیں لیتا۔بہر حال پہلی بات جو میں چاہتا ہوں کہ آپ کریں مجھے خوشی پہنچانے کے لئے وہ یہ کہ ہر وہ احمدی بچہ جو کراچی میں Greater karachi میں اور اس میں میں شامل کرتا ہوں ضلع حیدر آباد اور دا دو اور تھر پار کر یہ ہماری زمینیں آگئی نا ساری۔یہ اگر کر لیں تو اس سارے ایریا میں ہر وہ بچہ جو اگلے تین چار ماہ میں امتحان ہونے والے ہیں اگر وقت پر ہو گئے تو ہر بچہ جو امتحان دے وہ مجھے نتیجہ نکلنے پر خط لکھے اور میں ہر اُس بچہ کو اپنے دستخطوں سے جواب دوں گا اور یہ تو عام ہے اور ہر بچہ جس نے پانچویں جماعت کا امتحان دیا ہے اور اس علاقہ میں مختلف محکمہ تعلیم مختلف حصوں کے ذمہ دار ہیں مثلاً کراچی کا اور ہے اور حیدرآباد کا اور ہے مجھے اس کی تفصیل کا پتہ نہیں لیکن جو مستقل Independent یونٹ میں امتحان لینے والے اس انڈی پینڈنٹ یونٹ میں ہر وہ بچہ جو اوپر کی تین سو پوزیشنز میں آتا ہے ( پانچویں جماعت میں بے شک پانچ سو کی پانچ سو پوزیشنیں لے لو ) اس کو علاوہ خط کے (میں سوچ کے بتاؤں گا تر تیب بدلنی