خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 632
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۳۲ خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۰ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھ کے اگر ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نور حاصل نہیں کرنا تو زندہ رہ کے کیا کرنا ہے۔میں نے کہا کلب (Club ) بناؤ۔خدام اپنی بنائیں۔انصارا اپنی بنائیں، لجنہ اپنی اور پہلا مرحلہ یہ ہے ( پہلے جو میں نے بات کی تھی اور سوچا اب اس سے کچھ زائد بات کرنے لگا ہوں ) کہ ہر گھر میں دو آدمی میاں بیوی ہیں ابھی بچہ نہیں پیدا ہوا یا آٹھ دس آدمی ہیں اور ان کے Dependents ہیں بچے بڑے ہو گئے ہیں۔پہلا مرحلہ یہ ہے کہ ہر گھر میں ایک نسخہ تفسیر صغیر کا ہو یا اگر کوئی انگریزی کے شوقین ہیں تو جو انگریزی ترجمہ قرآن کے فٹ نوٹ ہیں ان میں تفسیر صغیر کو Follow کیا ہے بلکہ اپنی شروع خلافت میں بعض مضامین پر میں نے روشنی ڈالی تو ملک غلام فرید صاحب نے ان کو بھی انگریزی کے فٹ نوٹس میں لے لیا۔یہ مرضی ہے گھر والے کی کہ وہ تفسیر صغیر رکھتا ہے یا تفسیر صغیر کی طرح کے ہی جو نیچے نوٹ والا ہمارا انگریزی ترجمہ اور نوٹ ہیں وہ اپنے گھر میں رکھتا ہے۔اور دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر کی جو پانچ جلدیں چھپ چکی ہیں وہ اس سال کے اندر اندر ہر گھر میں آجا ئیں۔اس کے لئے میں نے ایک تجویز سوچی۔میں نے کہا نا کہ ایک ہماری مشکل یہ ہے کہ اتنے پیسے نہیں۔مثلاً ایک خاندان ہے وہ ڈیڑھ سو روپیہ کما رہا ہے ڈیڑھ سو سے زیادہ ان کی قیمتیں بن جاتی ہیں وہ کیسے یکدم خرید لے گا تو عقل سے ہم نے کام لینا ہے۔میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ میں سے کوئی بھی بددیانت نہ ثابت ہو اور آپ کو یہ غیرت ہونی چاہیے کہ آپ میں سے کوئی بددیانت نہ ثابت ہو۔اگر آپ دیانت دار ہیں تو ہمیں ایک لحظہ کے لئے بھی آپ کو کتاب پکڑانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں محسوس ہوتی۔یہ کلب جو میں نے بتائی ہے آپ سوچ کے بنالیں گے سارے کے سارے اس کلب کے ممبر ہونے چاہئیں۔بے شک اپنے چندے اپنی آمد کے لحاظ سے تھوڑے یا بہت کریں مثلاً دو روپے مہینہ کریں ، تین روپے مہینہ کریں، پانچ روپے مہینہ کریں، دس روپے مہینہ کر یں۔باقاعدگی سے ہر شخص پہنچائے ، جگہ پہنچانے کی وہ ہو جہاں اسے زیادہ تکلیف نہ ہو۔۔۔۔۔دس میل دور و پے خرچ