خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 631 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 631

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۳۱ خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۰ء کے سلسلہ میں کہا تھا۔میں نے خدام سے کہا تھا کہ ہمارے ملک میں کتابوں کی خرید کی طرف جو توجہ نہیں اس کی دو وجوہات ہیں، ایک یہ کہ ملک غریب ہے اتنے زیادہ پیسے خرچ نہیں کر سکتے دوسرے یہ کہ پڑھنے کی عادت نہیں۔میں نے پہلے بھی بتایا ہے۔میں انگلستان میں پڑھتا رہا ہوں ریل میں سفر کئے ہیں۔میری آنکھوں نے یہ مشاہدہ کیا کہ ریل کے ڈبے سے ایک شخص ایک اسٹیشن پر اترا اور صبح کا اخبار جو اس نے پڑھنے کے لئے خریدا تھا۔مول لیا تھا وہ اپنی سیٹ کے او پر چھوڑ گیا۔اس کی جگہ اسی اسٹیشن سے ایک اور مسافر سوار ہوا اور اس نے دیکھا ایک اخبار پڑا ہے اس نے اٹھا کے پر لی سیٹ پر رکھ دیا اور اگلے سٹیشن پر اترا اور وہی اخبار خرید کے لایا۔ان کو مانگے کا اٹھا کے ہاتھ میں لے کے پڑھنے کی عادت ہی نہیں۔پیسے خرچ کرتے ہیں پڑھ کے پھینک دیتے ہیں یہ بدقسمتی ہے ہمارے سارے مشرقی علاقوں کی کہ یہاں لوگوں کو پڑھنے کی عادت نہیں۔علم حاصل کرنے کی عادت نہیں۔سیکھنے کی عادت نہیں Concentration کی عادت نہیں۔توجہ قائم رکھنے کی عادت نہیں علم سے نور لے کے آگے ہی آگے بڑھنے کی عادت نہیں۔مگر ہمارے لئے ایک ما بہ الامتیاز ہونا چاہیے، بہت ساری باتوں میں ہے، اس میں بھی ہونا چاہیے۔ایک احمدی میں اور دوسروں میں جو اس علاقہ میں بسنے والے ہیں۔آپ حیران ہوں گے یعنی یہ تو سورہ فاتحہ کی باسٹھ جلدیں ہیں۔امریکہ میں وہ احمدی، امریکن ، جنہوں نے عیسائیت یا بد مذہب یاد ہر یت کو چھوڑا اور احمدی ہوئے جن کی احمدیت پر تین چار سال گزرچکے ہیں اور سینکڑوں کی تعداد ہے ان کی انگریزی کی جو تفسیر ہے پانچ جلدوں کی وہ ان کے ہر گھر میں موجود ہے اور وہ اسے پڑھتے ہیں اور خالی پڑھتے نہیں جہاں سمجھ نہیں آتی فون اٹھاتے ہیں اور ہمارے مبلغ کو فون کرتے ہیں کہ یہ آیت ہے یہ تفسیر کی ہے، مجھے سمجھ نہیں آئی بتاؤ مجھے۔وہاں تین منٹ کا فون نہیں ہوتا۔وہاں اتنے منٹ کا فون ہوتا ہے جتنے پیسے دینے کے لئے آپ تیار ہیں یعنی وہاں ٹیلی فون ایکیھنچ بتا تا ہی نہیں کہ تین منٹ گزرے، دس منٹ گزرے، تیس منٹ گزرے، صرف بل بتاتا ہے کہ اتنے منٹ آپ نے فون کیا تھا اتنے پیسے دے دو لیکن ہمیں تو کتابیں پڑھنے کی عادت ہونی چاہیے۔خصوصاً وہ کتب جو ہماری جان ہیں۔