خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 616 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 616

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۱۶ خطبه جمعه ۲۹ فروری ۱۹۸۰ء کے لئے یہ ساری چیزیں جو خود ربوبیت کی محتاج ہیں تم ان کے محتاج ہو۔یعنی ہر وہ چیز جو کائنات میں پیدا کی گئی۔جس کو اگر ہم سٹڈی (study) کریں، جس پر جب ہم مطالعہ کریں، جس کی جب ہم تحقیق کریں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ وہ مختلف مدارج میں سے گزر کے اپنے ولادت سے لفظ استعمال کر لیتے ہیں، سے لے کے اپنی بلوغت تک تھوڑ از مانہ بڑا زمانہ بہر حال ایک زمانہ ہے بہت سے مدارج ہیں جن میں سے وہ چیز گزرتی ہے، پھر وہ ایسے مقام کو پہنچتی ہے کہ جسے جس غرض کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے اس غرض کو وہ پورا کرے اور یہ ساری چیزیں پیدا کی گئی ہیں اس غرض کے لئے کہ انسان اس غرض کو حاصل کرے مقصودِ حیات کو جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے۔مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: ۵۷) انسان کو اس لئے پیدا کیا گیا کہ وہ خدا تعالیٰ کے عبد بنے۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنی صفات پر چڑھائے۔تَخَلَقُوا بِأَخْلَاقِ اللهِ اللہ تعالیٰ کے اخلاق میں رنگے جائیں۔انسانی عمل خدا تعالیٰ کی صفات کی عکاسی کر رہا ہو۔اللہ تعالیٰ کے اخلاق کی عکاسی کر رہا ہو۔اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو قرآن کریم میں بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے کہ ربوبیت کون ہستی کر سکتی ہے؟ اس طرف ہمیں توجہ دلائی جائے۔یعنی آپ کو، ست سلاجیت بنانے کے لئے آپ کو پتہ نہیں کن مدارج میں سے گزرتی ہے، ابھی تک انسان کو نہیں پتہ ، انسان تو نہیں کر سکتا۔تو جو چیزیں، جو صفات اس بالا ہستی میں ہونی چاہئیں، جن کے نتیجہ میں صحیح ربوبیت ہو سکتی ہے ان کی طرف ہماری رہنمائی کی گئی ہے۔ایک چیز جو عام طور ہم بولتے ہیں کہ وہ یہ کہ اللهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْ ءٍ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے جس نے پیدا کیا وہی جانے۔بڑے مزیدار معنی کئے ہیں اللهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ کے، جس نے پیدا کیا وہی جانے۔اللہ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ جس نے پیدا کیا اسے پتہ ہے کہ ایک چیز کے پاؤں کو کتنی بیشمار چیزوں سے بنا دیا، ہمیں نظر بھی نہیں آتیں اب وہ۔ایک بڑی دور بینیں انہوں نے بنائی ہیں اور خوردبینیں ، شاید ان سے ہمیں پتہ لگے، بہت سا علم حاصل ہو رہا ہو گا میرے علم میں نہیں۔تو جب تک وہ مخلوق ، جو چیز ہے، شے ہے جس کو یہاں کہا گیا ہے اس کا پورا سارے کا سارا تفصیل کے ساتھ علم نہ ہو اس کی ربوبیت نہیں ہو سکتی۔تو وہ جس نے پیدا کیا وہ جانتا ہے وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيل اور ہر شے