خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 603 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 603

خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۰۳ خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۰ء کر سکیں اور جس کے نتیجہ میں وہ وجود بن گیا جس کی مثال بنی آدم میں ہمیں نظر نہیں آتی۔اتنی طاقت که ساری قوم ، قوم کے رؤساء خلاف ہو گئے۔کوئی ایسی اذیت نہیں تھی جو پہنچانے کی کوشش نہیں کی گئی مگر جس دامن کو پکڑا تھا اس قومی اور امین نے اس دامن کو چھوڑا نہیں اور اپنے ماننے والوں کو بھی کہا کہ اگر خدا کا پیار حاصل کرنا چاہتے ہو تو ان عارضی دکھوں کی کوئی پروا نہیں کرو۔یہ تو دکھ دور ہو جائیں گے ، اندھیرے جاتے رہیں گے۔روشنی آئے گی تمہارے لئے سکھ اور چین کے سامان پیدا ہو جا ئیں گے۔تمہارا رب تم سے خوش ہوگا۔اس زندگی میں بھی تم اپنے رب سے راضی ہو گے اور مرنے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں داخل ہونے والے ہو گے۔تیسری بات ان آیات میں یہ بیان ہوئی ہے۔قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ۔یہ بڑا ز بر دست اعلان ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم خدا کے پاک ترین، مقدس ترین بندے ہر آن ہر لحظہ اپنی زندگی کا خدا کی راہ میں گزار نے والے، کامل فرمانبرداری کرنے والے۔کامل فرمانبرداری کی طاقت رکھنے والے، خدا تعالیٰ کی نافرمانی کا کبھی خیال بھی نہ لانے والے ہیں لیکن اُمت کو سبق دینے کے لئے اس اعلان کا ہونا ضروری تھا قل یہ اعلان کر دو دنیا میں ابی اَخَافُ کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو بہتوں کے لئے شفیع بنایا گیا ہوں میں بھی ، اگر میں نافرمانی کروں تو یوم عظیم کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔یومِ عظیم قرآن کریم کی اصطلاح میں وہ دن ہے جب آخری فیصلہ اعمال کا انسان کو ملے گا حشر کے روز۔دوسری جگہ اس کی وضاحت قرآن کریم نے کی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلان کرا دیا کہ میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے بھی نافرمانی کی تو خدا کے قہر سے میں بچ نہیں سکتا۔اپنی اپنی فکر کر لوتم لوگ۔چوتھی بات یہاں یہ بیان کی گئی ہے پہلے کہا گیا تھا پہلی دو آیتوں میں کہ مجھے حکم ہے کہ میں کامل فرمانبردار بنوں اور مجھے حکم ہے کہ میں کامل موحد بنوں۔خدا تعالیٰ کی عبادت بھی خلوص سے کروں اور خدا تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ اطاعت بھی اسی کی کروں کسی غیر اللہ کی اطاعت نہ کروں، یہ حکم تھا۔کوئی غیر مسلم کہ سکتا ہے کہ یہ حکم ہے ہمیں کیسے معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حکم کی بجا آوری کی توفیق عطا کی اور مقبول اعمال صالحہ کی توفیق دی تو یہیں ان آیات کے