خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 601
۶۰۱ خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۰ء ود خطبات ناصر جلد هشتم اس لئے کہ فرمایا اِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : ۳۲) قرآنِ کریم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں یہ بات ڈالی ، آپ کی طرف سے یہ اعلان کیا کہ اگر تم خدا تعالیٰ کا پیار چاہتے ہو اور محبت حاصل کرنا چاہتے ہو ، اس کا تحرب چاہتے ہو، اس کی رضا کی جنتیں چاہتے ہو تو فَاتَّبِعُونی، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو، اطاعت کرو، اس کے نتیجہ میں يُحببكم الله اللہ تعالیٰ تم سے پیار کرنے لگے گا۔کوئی ایسی اطاعت جو اللہ تعالیٰ کی اجازت اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ہو، یا اس کے خلاف ہو کہنا چاہیے۔اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کا پیار حاصل نہیں ہوسکتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی محبت محض اس لئے انسان کو ملتی ہے کہ خدا نے کہا ہے کہ میرے اس محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو، اس کے نقش قدم پر چلو، اس لئے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لئے بھیجا گیا ہے کہ وہ تمہیں ابدی حیات کی طرف، روحانی زندگی کی طرف، خدا تعالیٰ کی جنتوں کی طرف بلائے۔اور وہ اس لئے بلاتا ہے تمہیں کہ لِيُحْيِيكُمُ تا کہ وہ زندہ کریں تمہیں۔اس لئے نہیں بلاتے کہ خدا کے علاوہ کسی اور کی عزت کو قائم کریں ،اس لئے بلاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی عزت دنیا میں قائم ہو۔اِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا کا اعلان کیا۔اس لئے بلاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت دنیا میں قائم ہو۔قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ۔اس لئے بلاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی الحی اور القیوم کی صفت کے جلوے دنیا دیکھے کہ خدا زندہ بھی ہے اور زندگی اور حیات کا سر چشمہ بھی ہے۔ایک لمحہ کی دوری خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کے متصرف بالا رادہ ہونے کا اس سے جو حکم نازل ہوتے ہیں ان سے اگر ہو جائے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔وہ قائم رکھنے والا ہے۔قائم ہے اپنی ذات میں اور ہر غیر جو ہے وہ اس کی ذات سے قائم ہے اپنی ذات میں قائم نہیں ہے کوئی چیز بھی۔خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کو بیان کرنے والے، خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کی معرفت کے دروازے کھولنے والے، وہ راہیں بتانے والے جو خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والی ہیں ، وہ راہیں جو خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرتی ہیں، وہ صراط مستقیم جو سیدھی اللہ تعالیٰ کے دربار کی طرف جاتی ہے۔اسی لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو۔والدین سے حسن سلوک پر بڑا زور دیا ہے قرآنِ کریم نے لیکن ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ اگر