خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 595
خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۹۵ خطبه جمعه ۱۵ رفروری ۱۹۸۰ء جواب میں دکھ نہیں پہنچانا۔میں نے انہیں کہا تھا یہاں نہیں میں ٹھہرتا۔میں تمہیں یہ کہتا ہوں تمہارے دل میں بھی ان کے خلاف غصہ نہ ہو۔میں یہاں بھی نہیں ٹھہر تا تمہاری زبانوں پران کے لئے دعا ہو خدا کے حضور کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔بڑا اہم کام ہے جو ہمارے سپر د ہوا۔بڑی اہم ذمہ داری ہے اس شخص کی جس نے خود کو حضرت مسیح موعود کے دامن کے ساتھ وابستہ کر لیا۔جس نے یہ اعلان کیا کہ مہدی جس غرض کے لئے آیا ہے اس غرض کو پورا کرنے کے لئے ہم ہر چیز کو قربان کر دیں گے۔تم اعلان یہ کرو اور تمہارا عمل کچھ اور ہو۔ہوتا ہے اس طرح بھی لیکن اس پر خدا خوش نہیں ہوا کرتا اور اس کے نتیجہ میں وہ برکتیں اور رحمتیں حاصل نہیں ہوا کرتیں جن کا خدا تعالیٰ نے وعدہ دیا ہے۔اس کے نتیجہ میں وہ مقصد حاصل نہیں ہوتا جس مقصد کے لئے ہر فرد انسانی پیدا ہوا ، جس مقصد کے لئے جماعت احمدیہ کو قائم کیا گیا ہے۔کئی جگہ سے اطلاعیں آجاتی ہیں کہ آپس میں لڑ پڑے ذراذرا سی بات پر۔تم جب تک مٹی نہیں بن جاتے ، جب تک تمہارا نفس مر نہیں جاتا ، جب تک تم ہر دوسرے کے لئے اکسیر نہیں بن جاتے ، جب تک تم احسان اور پیار کا اُبلتا ہوا چشمہ نہیں بن جاتے ، اس وقت تک اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے۔بہت سارے اور بھی خطبے دوں گا۔آپ پڑھا بھی کریں اور سنایا بھی کریں سب کو ، تو جہ بھی دلایا کریں۔نو سال ہیں اس میں یعنی اس صدی کے شروع ہونے میں جیسا کہ میں نے بتایا میں نے سوچا دعائیں کیں۔اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو بات واضح کی ہے وہ یہ ہے کہ احمدیت کی زندگی کی دوسری صدی ، غلبہ اسلام کی صدی ہے۔اس غلبہ اسلام کی صدی کے استقبال کے لئے وہ جماعت چاہیے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود نے فرمایا:۔بع صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا جب ہماری وہ صدی ( یہ ہجری صدی کی نہیں میں بات کر رہا) ہماری زندگی کی صدی جو نوسال کے بعد آنے والی ہے۔جب وہ پچھلی صدی پر نظر ڈالے، جو موجود ہو جماعت اس کے او پر اس صدی کی نگاہ پڑے وہ کہیں صحابہ میں اور ان ( میں ) کوئی فرق نہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ سے عشق کرنے والے، اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے والے، اسی طرح