خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 592 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 592

خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۹۲ خطبه جمعه ۱۵ رفروری ۱۹۸۰ء کام خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل اور اپنی رحمت سے کر دیئے جن کی طرف میں نے کچھ اشارے کئے ہیں۔جلسے پر بھی میں نے کہا تھا کہ نوٹ جو میرے ہاتھ میں ہیں وہ چوہتر صفحے کے ہیں اور جو تقریر میں کروں گا شاید دو چار پانچ صفحے سے آگے نہ بڑھ سکوں۔جو سب سے اہم چیز ہے وہ یہ ہے کہ جو اس وقت موجود جماعت احمدیہ کے افراد ہیں ان کی زندگی میں ایک انقلاب عظیم بپا ہو۔اسلامی تعلیم کے مطابق ، اسلامی ہدایت کے مطابق ہمارے مرد اور ہماری عورتیں ، ہمارے بڑے اور ہمارے چھوٹے اور ہمارے جوان اور ہمارے بچے زندگی گزارنے والے ہوں۔جب تک وہ انقلاب جو دنیا میں خدا الا نا چاہتا ہے وہ ہماری زندگی میں نہیں آتا ہم کس طرح اس انقلاب کو دنیا میں بپا کر سکتے ہیں۔یہ کہنا کہ ساری دنیا میں اسلام غالب آئے گا، یہ کہنا کہ نوع انسانی ، نوع انسانی کا مطلب یہ ہے کہ افریقہ کے رہنے والے قریباً سارے انسان، جنوبی امریکہ کے رہنے والے برازیل وغیرہ وہاں بہت سارے ممالک ہیں وہاں کے رہنے والے سارے باشندے شمالی امریکہ جس کا بہت ذکر آج کل آرہا ہے افغانستان کی گڑ بڑ کی وجہ سے وہاں کے سارے باشندے جو ہیں، کینیڈا ہے، یورپ ہے مشرق قریب (Near East) اور مشرق وسطی (Middle East) اور مشرق بعید (Far East) ممالک جو ہیں، جزائر جو ہیں، چائنہ جو ہے اور یہ جو کمیونسٹ ایشیا ہے اور جاپان اور آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اور نجی آئی لینڈ وغیرہ وغیرہ جہاں جہاں انسانی آبادیاں بستی ہیں وہ ساری کی ساری اسلام میں داخل ہو جائیں گی لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ مسلمان کہلانے لگیں گے۔مسلمان کہلا نا کسی خطے کا ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ اسلام وہاں غالب ہے۔یہ بتاتا ہے کہ وہاں مسلمان کہلانے والوں کی اکثریت ہے۔غلبہ اسلام کے معنی یہ ہیں کہ وہ اسلامی تعلیم کے مطابق اپنی زندگی گزار رہے ہوں گے۔اگر غلبہ اسلام کے یہ معنی نہیں کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہلانے لگیں بلکہ یہ معنی ہیں کہ وہ صحیح شکل میں مسلمان ہو کے ان کی روح کے اندر اسلام داخل ہو چکا ہو۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ اسلام کے معنی ہیں کامل اطاعت اور مثال یہ دی ہے ہمیں سمجھانے کے لئے کہ جس طرح ایک بکرا جبراً ( وہ تو اس کے اوپر جبر ہو رہا ہے تب ) قصائی کی چھری کے نیچے اپنی گردن رکھ دیتا ہے اس طرح انسان اپنی