خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 581
خطبات ناصر جلد هشتم ۵۸۱ خطبه جمعه ۸ فروری ۱۹۸۰ء اختیار دے کہ جو مناسب حال راستہ ہے اس کو اختیار کرو تو تم واقعہ میں مناسب حال راستہ اختیار کرنے والے ہو۔مثلاً کہا گیا کہ جو تیرا گناہ کرتا ہے اسے معاف بھی تو کر سکتا ہے بدلہ بھی تو لے سکتا ہے لیکن مناسب حال راہ کو اختیار کر اگر معافی سے اس کی اصلاح ہو سکتی ہے معاف کر دے۔اگر انتقام سے اس کی اصلاح ہو سکتی ہے معاف نہ کر انتقام لے۔بعض لوگ معافی دے کر گناہ کرتے ہیں۔معافی دے کر گناہ گار کو گناہ میں بڑھانے والے بن جاتے ہیں۔معاف کر کے گناہ کرنے میں اس کے ممد اور معاون بن جاتے ہیں۔بہت سے احکام ہیں جن پر مناسب حال ہونے کا حکم چسپاں ہوتا ہے اور اس کے مطابق ہمیں عمل کرنے کا حکم ہے۔الصلحت میں جو مناسب حال ہے یعنی اس میں جو مناسب کا مفہوم ہے اس سے ایک اور بات کا بھی ہمیں پتہ لگتا ہے اور وہ ایک اور چیز کی طرف اشارہ ہے قرآن کریم نے یہ اعلان کیا کہ میں کتاب مبین بھی ہوں اور کتاب مکنون بھی ہوں تعلیم کا جو پہلو زمانے کے لحاظ سے مناسب حال ہے۔مراد ہے تعلیم تو اپنی جگہ قائم ہے اس میں تو کوئی تبدیلی اور تغیر نہیں ہوسکتا جیسا کہ میں نے پچھلے جمعہ میں لاہور میں کھول کے بیان کیا تھا لیکن ایک ہی تعلیم ہے اس کے بہت سے پہلو نکلتے ہیں۔کچھ پہلو وہ نکلتے ہیں جن سے بدلے ہوئے حالات میں قرآن کی بنیادی تعلیم کا ایک پہلو اجاگر ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ اپنے پاک بندوں مطہرین میں سے کسی کو چنا اور اسے سمجھتا ہے کہ ہمارا جو یہ حکم ہے اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے۔وہ مکنون کا حصہ جو ہے چھپی ہوئی چیز وہ ظاہر ہو جاتی ہے، وہ روشن ہو کے ہمارے سامنے آجاتی ہے پھر وہ مبین کا ایک حصہ بن جاتی ہے۔اس لئے قرآن کریم کامل اور مکمل شریعت اس لئے بھی ہے کہ وہ مسائل جو نزول قرآن سے صدیوں بعد پیدا ہونے والے تھے ان مسائل کو بھی قرآن عظیم نے احسن رنگ میں بہترین رنگ میں حل کیا اور حل کیا اپنے ان بندوں کی وساطت سے جنہوں نے خدا کا پیار حاصل کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے نتیجہ میں اور اللہ تعالیٰ خود ان کا معلم بنا اور اسرار قرآنی اس نے ان کو سکھائے اور اس زمانہ پر رحم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ سے اس زمانہ کے، جو بھی زمانہ تھا جو بھی صدی تھی ، اس میں نئے مسائل جو اُبھرے تھے ان کا قرآن کریم کی ہدایت کی روشنی میں حل انسان کے ہاتھ