خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 580 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 580

خطبات ناصر جلد هشتم ۵۸۰ خطبه جمعه ۸ فروری ۱۹۸۰ء یہاں اس کے مقابلے پر آیا ہے۔اس لئے ایمان کا اشارہ ان تمام باتوں کی طرف ہوگا جن کا ذکر پہلی آیت میں ہے۔یہ وہ گروہ ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا جن کے متعلق کہا گیا تھا اس گروہ میں شامل نہیں ہوا۔یہاں ایمان اس طرف بھی اشارہ کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کے اس کی معرفت حاصل کی اس کی ذات کی بھی اور اس کی صفات کی بھی۔یہ وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں۔اپنی ساری امیدیں اسی سے وابستہ رکھتے ہیں اور غیر اللہ کی طرف نگاہ نہیں رکھتے اور امید کا حقیقی مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات کو سمجھتے ہیں۔امنوا وہ ایمان لاتے ہیں خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کو وہ سمجھتے ہیں اس کی کبریائی کے جلوے ان پر ظاہر ہوتے ہیں۔اور ان کے دل خشیت اللہ سے بھر جاتے ہیں اور لرزاں ترساں اپنی زندگیوں کے دن گزارنے والے ہیں۔اور وہ ایمان لاتے ہیں اللہ پر، وہ جانتے ہیں کہ خدا اپنے بندوں کی تو بہ کو قبول کرتا ہے۔انسان ہیں غلطیاں ہو جاتی ہیں ان سے۔مومن ہیں غلطی کرتے ہیں پشیمان ہوتے ہیں۔پشیمان ہوتے ہیں اپنے رب کی طرف رجوع کرتے اور تو بہ کرتے ہیں۔اپنے غفور خدا سے مغفرت چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اور ایمان لاتے ہیں کہ تو بہ کے نتیجہ میں گناہ جمع نہیں ہوا کرتے بلکہ تختی صاف ہو جاتی ہے اور نیکیوں کا پلہ بھاری ہو جاتا ہے۔یہ وہ گروہ ہے وَعَمِلُوا الصلحت جو نیک اور مناسب حال عمل کرتے ہیں۔نیک عمل حقیقتا وہ ہے جو قرآن کریم کی ہدایات کے مطابق کیا جائے۔قرآن کریم نے ہماری ساری زندگی کو اپنے احاطہ میں لیا ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ قیامت کے روز قرآن کریم تم سے محاسبہ کرے گا کہ چھ یا سات سو جتنے بھی احکام ہیں ان کے مطابق تم نے اپنی زندگیاں گزاریں یا نہیں قرآن کریم کے ہر حکم پر عمل کرنا ہر امر اور نہی کے مطابق زندگی گزارنا یہ نیک زندگی ہے یہ پاک زندگی ہے لیکن قرآن کریم صرف یہ نہیں کہتا کہ نیک بنو اس معنی میں کہ جو ہدایت تمہیں دی گئی ہے اس کے مطابق عمل کرو۔قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ نیک بھی بنو اور صاحب فراست بھی بنو اور نور بھی خدا تعالیٰ سے حاصل کرو تا کہ جہاں قرآن کریم کی ہدایت ہی دور استے تمہارے سامنے کھولے اور تمہیں